گلگت (بیرو چیف) وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی اورصوبائی حکومت کووہ تمام اختیارات دئیے گئے جوکسی دوسرے صوبوں کی اسمبلی اور صوبائی حکومت کوحاصل ہیں جبکہ وزیراعظم نے گلگت بلتستان آرڈر 2018میں ترمیم کا حق بھی اسمبلی کودینے کا وعدہ کیا ہے۔انہوںنے سپیکر فدا محمد ناشاد اور صوبائی وزراء کے ہمراہ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کا وزیراعظم نے باقاعدہ اعلان کردیاہے صدر پاکستان نے اس آرڈر پر دستخط کردئیے ہیں گزٹ آف پاکستان میں شائع ہونے کے بعد اسے پبلک کردیاجائیگا۔انہوںنے بتایا کہ 1994کے لیگل فریم ورک آرڈر کو مکمل طورپر ختم نہیں کیاگیاتھا اس میں کچھ ترامیم کر کے گورننس آرڈر 2009بنادیا گیا تھا اس طرح گورننس آرڈر 2009کو ختم نہیں کیاگیا ہے بلکہ اس میں کچھ ترامیم کر کے گلگت بلتستان آرڈر 2018بنادیاگیا ہے۔انہوںنے کہا کہ لینڈ ریکوزیشن ایکٹ تمام صوبوں میں نافذ ہے اورگزشتہ چالیس سال گلگت بلتستان میں بھی نافذ ہے گورننس آرڈر 2009میں بھی یہ ایکٹ موجود تھا اور بغیر کسی تبدیلی کے اس ایکٹ کو گلگت بلتستان آرڈر 2018میں بھی برقرار رکھا گیا ہے مگر بعض لوگوںنے بدنیتی کی بنیاد پر پروپیگنڈہ کیا کہ اب اس آرڈر کے بعد حکومت لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کریگی انہوںنے کہا کہ علاقے کی امن کی خاطر ہم نے دو ڈھائی سال انتہائی صبر اوربرداشت سے کام لیا ان دو ڈھائی سال کے عرصے میں لوگوںنے بہت کوشش کی کہ یہاں پر بھی ماڈل ٹائون جیسا سانحہ ہو خون خرابہ ہو لاشیں گرے تاکہ ترقی کا عمل رک جائے انہوںنے کہا کہ ان اصلاحات پر اسمبلی کے ایک ایک ممبرسے ڈسکس کیا۔اپوزیشن کو بلایا تو انہوںنے کہا کہ اگر یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیارہیں بصورت دیگر ہم کوئی بات نہیں کریںگے ہم نے کہا کہ یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں ہے لیکن آپ 2009اور 2018کا جائزہ لیکرنشاندہی کریں کہ اس میں ہم نے کوئی غلطی تو نہیں کی ہے مگر اپوزیشن ممبران چلے گئے۔کچھ لوگوں نے یہ شوشہ چھوڑاکہ پاک فوج گلگت بلتستان کوصوبہ بنانا چاہتی ہے مگر حفیظ الرحمن اور مسلم لیگ ن اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے مراد صرف چار ممبران ہیں باقی اپوزیشن ممبران شروع دن سے ہم سے تعاون کرررہے ہیں اور مثبت اپوزیشن کررہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ہڑتال کا اعلان کیاگیا اور یہاں پرجلسے جلوس شروع ہوگئے ۔انہوںنے کہا کہ گورننس آرڈر 2009زرداری کے دورمیں بنااور نافذ ہواپی پی کے کئی وزراء اسمبلی میں آتے رہے ہم نے انہیں خوش آمدید کہا کوئی شورشرابہ نہیں کیا گورننس آرڈر 2009پراس وقت ہماری تنقید یہ تھی کہ پہلے سے موجود بہت سے اختیارات وفاق منتقل کئے گئے ہیں مثلاً ٹورزم،منرلز اور جنگلات گلگت بلتستان کے سبجکیٹ تھے اسے وفاق منتقل کیا گیا تھا اورہم نے شروع دن سے کوشش کی ۔نواز شریف نے کمیٹی بنائی تو اسمبلی نے قرارداد بھی منظورکی آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی اور ہم نے خاموشی سے اپنا کام کیا اب کچھ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ ان کی حکومت کی مدت کم رہ گئی ہے اصلاحات فائنل نہیں ہونگی اس لئے انہوںنے طرح طرح کی من گھڑت چیزیں عوام میں پھیلائی گئی کہ زمینوں پر اب حکومت قبضہ کریگی تمام اختیارات وزیراعظم کو منتقل کیاگیا ہے جو سراسر جھوٹ ہے انہوںنے کہا کہ تین چار سو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ریاست کی بنیادیں ہلانے کی باتیں کرتے ہیں اگر ان لوگوں کو آرڈر پہ آرڈر منظورنہیں ہے تو انہوںنے جس آرڈر کے تحت حلف لیا الیکشن لڑا ہے ان کو اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیناچاہیے۔
704









