696

سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دورمیں آغا ضیاء الدین کے قاتلوں کو جیل سے بھگانے کیلئے قراقرم یونیورسٹی میں خون کی ہولی کھیلی تھی

گلگت(پ ر)مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دورمیں آغا ضیاء الدین کے قاتلوں کو جیل سے بھگانے کیلئے قراقرم یونیورسٹی میں خون کی ہولی کھیلی تھی، عطاء آباد ہنزہ کے پرامن مظاہرین پر گولیاں برسا کر مظلوم باپ بیٹے کو قتل کیاتھا اوردرجنوں کو زخمی کیا تھا، نیز کئی سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کروایا جو آج بھی مہدی شاہ اورسابق پیپلزپارٹی کی ڈکٹیٹر حکومت کے ظلم کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، شمس میر نے کہا کہ مہدی شاہ حکومت میں رنگ رلیوں کے علاوہ کراچی سے لاشیں آتی تھیں، شاہراہ قراقرم پر حملے ہوتے تھے اور گلگت میں کرفیو ہوتا تھا۔یہ تھا مہدی شاہ کے کارنامے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عزیر بلوچ اور راؤ انور جیسے لوگوں کی جماعت ہے جنہوں نے ہر جگہ قتل کئے۔ مہدی شاہ اس جماعت کے رہنما ہیں جنہوں نے اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کو خود شہید کیا اور قاتل کو قائد بناکر بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 27مئی کو اپوزیشن کا ڈرامہ کھل چکا ہے۔ اس دن ایک گولی نہیں چلی بلکہ یہ خود بھاگ کر ہسپتال پہنچ گئے تھے اورفوٹو سیشن کیاگیا تاکہ عوام کو گمراہ کریں مگر عوام نے ان ڈرامہ بازوں کو مسترد کردیا، شمس میر نے کہا کہ سکردویاد گار چوک پر ڈرامے کرنے والوں نے گلگت بلتستان کو ہڑتالیں،جھوٹے جلسے اور گمراہ کن تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت نے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں بلتستان کو سکردو روڈ جیسا یاد گار منصوبہ دیا ہے بلتستان کی آئندہ نسلوں کے لئے بلتستان یونیورسٹی دی ہے عوام کو انتظامی سہولت کیلئے نئے اضلاع دئیے ہیں ہمارے کریڈٹ پر تعمیر و ترقی کے منصوبے ہیں،قانون کی حکمرانی ہے اور قیام امن کی کمٹمنٹ ہے جبکہ مہدی شاہ اور اپوزیشن کے کریڈٹ پر جھوٹ ہے،بدامنی، اداروں کے فروخت،نوکریوں کی نیلامی اورگلگت بلتستان میں فساد تھا لیکن اس وقت سکردومیں مہدی شاہ کے خلاف جلسے نہیں ہوئے،گلگت کی طرف لانگ مارچ نہیں ہوااور نہ ہی گلگت میں دھرنے ہوئے،اپوزیشن کا یہ ڈبل تضاد گلگت بلتستان کی عوام سمجھتی ہے اور اسے بغض حفیظ سمجھتی ہے مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ آرڈر 2018پر وہ لوگ سیاست کررہے ہیں جو ضمیر فروش ہیں اوران نمائندوں نے گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات میں ووٹ کا سودا کر کے گلگت بلتستان کو رسوا کیا تھا آج جو لوگ ایسے نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے عوام کو چاہیے کہ وہ نمائندوں کے کردار کو دیکھ کر ان کا ساتھ دیں ایسے لوگوں کی حمایت کا مقصد دھوکے،بدیانتی اورظلم کی حمایت ہے کیونکہ جو لوگ اپنے ووٹ اور نمائندگی کی حرمت کی حفاظت نہ کرسکے وہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا کیا حفاظت کریں گے بنکوں کو دیوالیہ کرنے والے آج سوشل میڈیا پر لیڈر بن رہے ہیں جو گلگت بلتستان کے تشخص سے مذاق ہے شمس میر نے کہا کہ صوبائی حکومت آزادی رائے کا احترام کرتی ہے اورپرامن احتجاج عوام کا حق ہے لیکن احتجاج کے پس پردہ ریاست پاکستان کے بنیادی نظریے کو مطعون کرنا،گلگت بلتستان میں مخصوص ایجنڈے کے تحت مخصوص ذہنیت سازی کرنا اوربد امنی کے عزائم کو ہوا دینا مقصود ہو تو پھر قانون بھی موجود ہے اور قانون کی عملداری بھی۔ گلگت بلتستان کی پرامن فضا کو مخصوص ایجنڈوں اوربدامنی کے عزائم کی نذر ہونے نہیں دیں گے مشیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پڑھے لکھے جاہلوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیڈز کو برائی کے رابطے کی ویب سائیڈز بنادیا ہے ان سائیڈز پر تعمیری گفتگو کی بجائے صرف سازش اور جہالت ہی نظر آتی ہے لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف عناصر کو منہ توڑ جواب دیں اور دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملادیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں