گلگت (آزان نیو ز)مشیر اطلا عات گلگت بلتستان شمس میر نے کہا ہے کہ صو با ئی حکومت گلگت بلتستان میں کھلے دروازو ں کی آزاد معشیت کی پا لیسی چاہتی ہے جس میں آ سان سر ما یہ کاری کے زریعے مقا میں معشیت کو تر قی اور مقا می مارکیٹ میں رو ز گار کے بھر پور مو ا قع پیدا کیئے جائیں۔ کاروبار اور روزگارکیلئے پر کشش پا لیسی،ٹیکس سے مستثنیٰ مارکیٹ اور مقا می تا جروں کیلئے تجارتی سر گرمیوں کے دائر کار کو قو می اور بین القو امی سطح تک وسعت دینا صو با ئی حکومت کی تر جیحات میں ہیں۔مشیر اطلا عات نے کہا کہ و زیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نا ردرن ایئر یاز چیمبر آف کامر س کے صد ر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامر س کے طو یل عر صے تک نا ئب صد ر رہے ہیں۔انہوں نے گلگت بلتستان میں مقا می تجارت سر مایہ کاری اور بارڈر ٹریڈ کی تر قی کیلئے مثا لی خدمات انجام دی ہیں۔گلگت بلتستان میں پاک چین سر حدی تجارت انہی کی صدارت میں پر وان چڑھی اور انہوں نے ناردرن ایئر یاز چیمبر آف کامر س کے پلیٹ فارم کو مقا می سر حدی تاجروں کا بین القومی فور م بنا دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹر یڈ اور بارڈر پاس کے ساتھ کسٹم اور ٹیکس کے قوانین میں چھوٹ مقا می سر حدی تا جروں اورکسٹم نظا م کو تجارت کے فروغ کیلئے بنا یا گیا تھا جب کی اسٹیٹ بنک وزارت صنعت و تجا رت اور چین کے وزارت صنعت و تجارت کے در میان دو ستا نہ تعلقات قا ئم کئے تھے جس سے گلگت بلتستان میں بار ڈر ٹر یڈ کو استحکام حا صل ہو ا اور چیمبر آف کامر س مظبوط ہوئی۔مشیر اطلا عات نے کہا کہ چیمبر آف کامر س اور بار ڈر ٹر یڈ بعد ازاں جا و یدحسین جیسے بنک ڈیفالٹر کے ہتھے چڑ ھ گیا جس نے چیمبر آف کامرس اور بارڈر ٹر یڈ، بارڈر پاس اور کسٹم کی نظام کو اپنی ذا تی مفادات کیلئے تباہ کردیا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی تجارتی منڈی سے وابسطہ ہزاروں نو جو ان بار ڈر ٹر یڈ اور اس بنک ڈیفالٹر کے ہاتھوں دیوالیہ ہو گئے۔انہوں نے کہا ہے کہ آ ج بھی ایسے لو گ اپنی مفا دات کیلئے مقا می معشیت اور بار ڈر ٹر یڈ کو نقصان پہنچا نے کے در پے ہیں اور متحد ا پو زیشن ووٹ فرو ش تا جرو ں کو گمرا ہ کرنے اور ان کا استصا ل کرنے کیلئے سیا ست کر رہی ہیں۔شمس میر نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون کا در جہ دینا پاکستان مسلم لیگ (ن)کی صو با ئی حکومت اور وفا قی حکومت کا عظیم کارنامہ ہے لہذا آئند ہ بھی گلگت بلتستان میں تاجر اور تجارت کی تر قی کیلئے وزیر اعلیٰ حا فظ حفیظ الر حمن کی صو با ئی حکومت ہی مثا لی فیصلے کریگی۔اصلا حاتی آ رڈر 2018ء کے تحت گلگت بلتستان میں تجارتی سہو لیات اور مر عات کی فراہمی کیلئے قا نو ن سازی بھی اب صو با ئی اسمبلی کر سکے گی جس سے مقا می تا جر،سر ما یہ کار اور تجارتی فور مز قو می و بین القوامی مارکیٹ تک آ سان قوا نین کے زریعے تجارت کر سکیں گے۔مشیر اطلا عات نے کہا کہ سی پیک کے تنا ظر میں کسٹم کے نظام اور وی بوک پر وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے اور مستقبل میں بارڈر ٹر یڈ کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں اعلیٰ اصلا حات تا جر وں کو درخشا ں مستقبل کی نو ید سنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ اپو زیشن تاجروں کو استعمال کر نے کی کو شش نہ کریں کیو نکہ گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی سے لیکر نظام میں اعلیٰ اصلاحات تک خد مات میں صو با ئی حکومت نے اقدامات کئے ہیں اور گلگت بلتستان میں بارڈر ٹریڈ سے لیکر مقا می تجارت اور تا جر برادری کی تر قی کیلئے دو ستانہ فیصلے بھی صو با ئی حکومت ہی کریگی۔ایسے میں اپو زیشن کا ووٹ فروش ٹو لہ بیگا نی شادی میں عبد اللہ دیوانہ کا کردار ہیں جو اب یہاں مداری بنا ہوا ہے۔
741









