693

متحدہ اپوزیشن کا آرڈر2018ء سپریم کورٹ، بجٹ کو چیف کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

گلگت ——– متحدہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان آرڈر2018ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان جبکہ بجٹ کو چیف کورٹ گلگت بلتستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیاہے ،متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ بجٹ سیشن میں احتجاج حکومت کی جانب سے پری بجٹ سیشن بلائے بغیر بجٹ سیشن کروانے پر کیا گیا تھا حکومت نے رول آف پروسیجرز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بجٹ بنایا ہے اور بجٹ کو پیش کیا ہے. حکومت کو چاہیئے تھا رول آف پروسیجرز کے رول نمبر 133 کے تحت پری بجٹ سیشن بلاتے اور اراکین اسمبلی سے تجاویز لیتے حکومتی چمچے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن نے بجٹ تقریر سنے بغیر احتجاج کیا. بجٹ تقریر کو تفصیل سے پڑھا ہے بجٹ 2018-2019 گلگت بلتستان کے عوام کے لئے نہیں بلکہ چند خاص لوگوں اور خاص علاقوں کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں کو صحت اور تعلیم جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے عید کے فورا بعد متحدہ اپوزیشن بجٹ 2018 2019- کو چیف کورٹ گلگت میں چیلنج کرے گی ون مین شو کے تحت حکومت کو چلنے نہیں دینگے اب عوام کی طاقت سے حفیظ سرکار کو کچل دینگے گلگت بلتستان کے عوام پر بہت ظلم کیا گیا ہے اب مزید کسی کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں دینگے متحدہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے حوالے سے عید کے بعد عوام کو سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آرڈر 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے دوسری جانب رکن اسمبلی جاوید حسین نے کے پی این کو بتایا کہ تاجروں کے مسئلے پر بھی حکومت کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے آج اے پی سی ہوگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کا مطالبہ اب صرف وی بوک نہیں رہا ،وی بوک کا مطالبہ ختم ہوگیا اب گلگت بلتستان کے تمام تاجروں کا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سیلز اور انکم ٹیکس کو ختم کیاجائے کیونکہ حکومت نے خود علاقے کو متنازعہ تسلیم کیا ہے اور متنازعہ حیثیت سے کوئی بھی ٹیکس غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں