گلگت(سپیشل رپورٹر)صوبائی وزیرتعمیرات ڈاکٹر اقبال نے قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں اور میرے اوپر فتویٰ لگ رہے ہیں مگر میں ڈرنے والا آدمی نہیں ہوں آج بھی کہتاہوں کہ گلگت بلتستان میں دونمبر مولویوں کی وجہ سے لاشیں گرتے تھے اور فسادات ہوتے تھے عوام ایسے دونمبر مولویوں کو مسترد کرے جو اپنے پیشہ اورانبیاء کے لباس اور طور طریقوں کو غلط استعمال کرتے ہیں ایسے مولویوں کو آج بھی دونمبر کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا۔انہوں نے اس موقع پر اپوزیشن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ممبران نے غیر منتخب شخص کو سرپر چڑاکے اسمبلی کا وقار مجروح کیا ہے ایسے شخص کو لاکر اپوزیشن لیڈر بنایا ہے جس کی میں نے ضمانت ضبط کرائی ہے اور آج وہ شخص گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی کرنے کو نکلاہے بجٹ اجلاس ان کے سامنے اتنااہم نہیں ہے بلکہ انہیں سوست میں تاجروں کے دھرنے میں کھانے پینے کو کچھ ملتا ہوگا اس لئے اپوزیشن والے وہاں گئے ہیں ان کو عوام کی فلاح وبہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے اگر وہ عوام کے حقیقی نمائیندے ہوتے تو آج اسمبلی اجلاس میں موجود ہوتے۔ صوبائی وزیرنے کہا اس موقع پر مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کا بجٹ مجموعی طوربہت ہی اچھا اور تاریخ ساز ہے مگرمجھے حکومت سے گلہ ہے میرے حلقے میں پی ایس ڈی پی کی ایک بھی سکیم نہیں رکھی گئی میرے حلقہ کو نذر انداز کیا گیا ہے جو کہ نہایت افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ ہزاروں آبادی پر مشتمل میرے حلقے میں تیس بیڈ کا ایک ہسپتال موجود ہے مگر وہاں پر ایک بھی سٹاف نہیں ہے۔
671









