گلگت (پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان شعبہ خواتین ونگ گلگت ڈویژن کی صدر سعیدہ مغل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردی بجٹ الفاظ کی ہیرا پھیری کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس پر اپوزیشن اراکین کا احتجاج حق بجانب ہے اور اپوزیشن اراکین نے بھر پور عوامی نمائندگی کی ہے۔ نیا بجٹ مخصو ص مراعات یافتہ طبقے کے لیئے ہے اس سے عام آدمی کو کو ئی فائدہ حا صل ہو نے والا نہیں ہے یہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھو نکنے کے لیئے بجٹ کو پا لش کر کے عوام کے سامنے لا رہے ہیں اور جتنا بھی بجٹ کو پالش کر کے چمکا کر عوام کے سامنے لا ئیں اس سے عوام کو نہیں بلکہ حفیظ الر حمن اینڈ کمپنی کو ہی فائدہ حاصل ہو نا ہے اور اس سے قبل بھی یہی ہو ا ہے۔ حکومت کی جانب سے پنشن کا قانون پاس کراکر تا حیات لو ٹ مار کر نے کے اقدام کی مزمت کر تے ہیں پہلے سے تین سو فیصد مراعات میں اضافہ کر کے قومی بجٹ پر بو جھ بن گئے ہیں اب پنشن بھی لیکر غریب عوام پر بوجھ بننے نہیں دیا جا ئے گا۔ جتنے مراعات اس وقت حکومت لے رہے ہے اس میں سو فیصد بھی کمی کی جا ئے تو بے روزگاری کی شرح میں کمی آسکتی ہے اور ساتھ ہی نئی پو سٹوں کے لیئے رقم کے علاوہ عارضی ملازمین کے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔جبکہ مو جو دہ حکومت صرف اخبارات کی حد تک گڈ گورننس کی رٹ لگا رہی ہے۔ہر طر ف اقر با ء پر وری کر پشن کا دور دورہ ہے۔ سیکریٹری واٹر اینڈ پاور نے واٹر اینڈپاور ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کو وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن کے رشتہ داروں کے لئے اے ٹی ایم کی مشین بنایا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے موصوف محکمہ واٹر اینڈ پاور ڈکے وسائل کو وزیر اعلیٰ کے رشتہ داروں کے روزگار کیلئے روزگار کا ذریعہ بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے تمام بے روزگار رشتہ دار واٹر اینڈ پاور ڈپارٹمنٹ کو سیکریٹری واٹراینڈ پاور ڈپارٹمنٹ کے ایما ء پر نوچ رہے ہیں۔ ٹراسفرمرز کا ٹھیکہ ہو یا بجلی کے میٹرز کا، ٹربائنس کا ٹھیکہ ہو یا ٹی جی بیٹس کا ٹھیکہ ایک مخصوص خاندان کے افراد کو نوازا جانا پاور ڈپارٹمنٹ کا قانون بن چکا ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈپارٹمنٹ میں وزیر اعلیٰ کے رشتہ داروں کو ٹھیکے ررٹرلوں کی طرح تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ بلنگ سسٹم کی کمپیوٹرائزیشن کی سکیم وزیر اعلیٰ کے من پسند افراد کو نوازنے کیلئے منظور کی گئی ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈپارٹمنٹ ٹھیکوں کیلئے اشتہارات ہاتھی کے دانت کے مصداق بن گئے ہیں۔ مذکورہ تمام ٹھیکوں میں صرف وزیر اعلیٰ کے رشتہ داروں کو پری کوالیفائی کیا جاتا ہے اور سرکاری نگرانی میں پول کرائے جاتے ہیں۔ جو کہ کرپشن کر نے کا منہ بو لتا ثبوت ہے اس سے ذیا دہ بیڈ گورننس کی مثال تا ریخ میں نہیں ملتی ہے۔
750









