725

بازار کمیٹی،سول سوسائٹی اور ایکشن کمیٹی کو نیند نہ آئے تو بھی احتجاج کر تے ہیں،سابق وزیر اعلیٰ

سکردو (چیف رپورٹر)سابق وزیر اعلیٰ سیدمہدی شاہ نے کہا ہے کہ بازار کمیٹی،سول سوسائٹی اور ایکشن کمیٹی کو نیند نہ آئے تو بھی احتجاج کر تے ہیں،دن کو ریاستی اداروں کو گالیاں دینے والے رات کو انہی کے ساتھ پکوڑے کھاتے ہیں،احتجاج کرنے والے علاقے کے امن اور نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔میرے رشتہ دار جمع ہو جائیں تو دھرنے والوں سے زیادہ ہونگے۔ علما اپنا کام کریں،احتجاج،دھرنے سیاستدانوں کا کام ہے ان کی آمدن ہے نہ پراپرٹی پھر بھی گاڑیاں کیسے چل رہی ہیں۔ پیپلزسیکریٹریٹ میں یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہزاد آغا کیس ہماری پارٹی کا مسئلہ تھا اور ہم اس کیس کو قانونی طریقے سے لڑنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں کو رات کو نیند نہ آئے تو بھی صبح سڑک پر آکر احتجاج اور دھرنے لگاتے ہیں اور اسی طرح بازار کمیٹی،سول سوسائٹی اور ایکشن کمیٹی کی بے جا مداخلت نے اس انفرادی کیس کو قومی مسئلہ بنا کر صرف اپنی لیڈری قائم رکھنے کیلئے علاقے کے امن،سیاحتی ماحول اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی مذموم سازش کی ہے اور کیس کو بھی خراب کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ دن کے جلسوں میں ریاستی اداروں اور انتظامی آفیسران کو گالیاں دیتے ہیں وہی لوگ رات کے اندھیرے میں انہی لوگوں کیساتھ بیٹھ کر پکوڑے کھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 30افراد اور 4گاڑیوں میں سوار ہو کر علاقے کے تشخص کو خراب کرنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر شہزاد آغا ہماری پارٹی کا ہے تو انہیں کیا تکلیف ہو کر احتجاج کر رہے ہیں وہ آرام سے بیٹھ جاتے ہم اپنے عہدیدار کے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر سکتے تھے ان کی غیر ضروری نعرہ بازی اور کشیدگی کی وجہ سے پورے علاقے کا ماحول خراب ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے 24گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اب 48گھنٹے گزر چکے ہیں یہ لوگ کہاں اور کس کی اینٹ سے اینٹ بچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف اپنے رشتہ دار بھی جمع کریں تو دھرنے والوں سے زیادہ لوگ جمع ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی عہدیدار نے اپنی شناخت کو سول سوسائٹی قرار دیا ہے تو ہم انہیں جواب دیتے ہیں کہ وہ سول سوسائٹی میں جائیں ہماری بھی جان چھوٹ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی سادات ہیں اور عمامہ ہم بھی پہن سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں