723

گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دینا نا گزیر ہو چکا ہے

کراچی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے عنوان سے کراچی میں قومی سیمینار منعقد ہوا. مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دینا نا گزیر ہو چکا ہے. صوبہ نہیں بنایا جا سکتا تو مقبوضہ کشمیر جتنے اختیارات دیئے جائیں. آزاد کشمیر کے جیسے ادارے بنائے جائیں. حکمرانوں اور مقتدر حلقوں نے گلگت بلتستان کو 70 سال میں شناخت نہیں دی. ایک عدد شناختی کارڈ دیا تھا, اب نوجوانوں کے شناختی کارڈ بھی بلاک کئے جا رہے ہیں. گلگت بلتستان پاکستان کو ٹیکس سے بڑی قیمت ادا کر رہا ہے. ٹیکس کا مطالبہ بھتا لینے کے مترادف ہے. حکومت یہاں سی پیک بنائے. پانی کے ذخائر بنائے مگر یاد رکھے ان کے مالک گلگت بلتستان کے عوام ہیں. آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں رہنما ایم ڈبلیو ایم مولانا امین شہیدی کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے نوجوان صبح شام فریاد کر رہے ہیں ہم پاکستانی ہیں, ہمیں شناخت دی جائے. لیکن مقتدر قوتیں انہیں وطن کے بیٹے تسلیم کرنے کو تیار نہیں. خطے کے حقوق مانگنے والوں کے نام شیڈول فور میں ڈالے جا رہے ہیں. پاکستان نے ہمیں شناخت تو نہیں ایک عدد شناختی کارڈ دیا تھا. اب نوجوانوں کے شناختی کارڈ بلاک کئے جا رہے ہیں. دھرتی کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے اب موبائل سم بھی نہیں خرید سکتے. گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شفیع کا کہنا تھا ریاستی پالیسیاں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے جذبات مجروح کر رہی ہیں. ریاست کے پالیسی ساز یاد رکھیں گلگت بلتستان کے پہاڑ بلوچستان کے پہاڑوں سے اونچے ہیں. گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بنایا جا سکتا تو اتنی حیثیت دی جائے جتنی انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو دے رکھی ہے.آزاد کشمیر کا اپنا وزیر اعظم ہے. سپریم کورٹ ہے, دیگر ادارے موجود ہیں. گلگت بلتستان کو اختیارات دینے میں کیا قباحت ہے؟ کیپٹن ریٹائرڈ شفیع نے مزید کہا کہ عدالت کا جی بی آرڈر 2018 کو کالعدم قرار دینا خوش آئند ہے. پیپلز پارٹی کا دیا ہوا آرڑر 2009 بھی منظور نہیں. ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ جب تک گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بنایا جاتا ٹیکس کی وصولی بھتا لینے کے برابر ہے. گلگت بلتستان پاکستان کو پانی دے رہا ہے. بڑے بڑے ڈیمز کے لئے جگہ دے رہا ہے. سی پیک جیسی اہم بین الاقوامی شاہراہ یہاں سے گزرتی ہے. یہ ٹیکس سے بہت بڑی قیمت ہے. رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی نے بھی سیمینار سے خطاب کیا. ان کا کہنا تھا گلگت بلتستان وہ حسین دو شیزہ ہے جس پر مقامی بد معاشوں کی غلیظ نگاہیں ہیں. بین الاقوامی ڈاکوؤں کی غلط نظریں ہیں. ہمیں گلگت بلتستان کو ان سے بچانا ہے. انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں سی پیک بنایا جائے. مزید 10 سڑکیں بنائی جائیں. پانی کے ذخائر بنائے جائیں مگر یاد رہے ان سب کے مالک ہم ہیں. پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ جی بی آرڈر 2018 نے مقامی لوگوں سے بنیادی حقوق چھین لئے. پیپلز پارٹی کے انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے. پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینا چاہتی ہے. اس میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں. پارلیمنٹ میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دینا چاہتی ہے. مشترکہ مفادات کونسل سمیت تمام آئینی اداروں میں نمائندگی دینا چاہتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے سی پیک میں گلگت بلتستان کے لئے ایک ڈالر نہیں رکھا تھا. سینیٹ کی کمیٹی کی پرزور سفارش پر سی پیک میں جی بی کا حصہ رکھا گیا. تاج حیدر کا مزید کہنا تھا جی بی کونسل اسلام آباد کی آلہ کار ہے. کونسل کو ختم کر کے اسمبلی کو با …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں