گلگت (بیور ورپورٹ) مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ٹھیکیداروں کا سرغنہ اور لوٹ مار مافیا کے صدر امجد ایڈووکیٹ کی سیاست ٹھیکیداروں کی خیرات پر ہے‘ یہ وہی امجد ایڈووکیٹ ہے جن کے دور میں محکمہ تعلیم کو نیلام کر دیا گیا تھا اور گزشتہ دور حکومت میں مہدی شاہ سے لیکر امجد ایڈووکیٹ تک نے گلگت بلتستان کی عوام کے خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا تھا۔ شمس میر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا گزشتہ دور حکومت عوام نہیں بھولے ہیں جب لاقانونیت، بدامنی اور فرقہ واریت عام تھی جبکہ دوسری طرف یہی چار کا ٹولہ رنگ ریلیوں اور لوٹ مار میں مصروف تھا۔ شمس میر نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ اور اس کے حواریوں کو بغض حفیظ میں سکردو روڈ، بلتستان یونیورسٹی، امراض قلب اور کینسر کے ہسپتال، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کا نظام، واٹر سپلائی کے میگا منصوبے، استور ویلی روڈ، نلتر روڈ، ہینزل پاور پراجیکٹ، گیس کا منصوبہ، سیوریج کا منصوبہ، پلوں کی تعمیر اور دیگر اربوں کے منصوبوں پر کام نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ امجد ایڈووکیٹ کے دور میں گلگت بلتستان میں ایک کلوٹ تعمیر نہ وہوسکا ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ یہ حفیظ الرحمن کی حکومت ہے جس نے گلگت بلتستان میں امجد ایڈووکیٹ اور اس کے حواریوں کی لاقانویت اور لوٹ مار کو نکیل ڈالی ہے۔ گلگت بلتستان میں امن بحال کیا ہے۔ میرٹ کو یقینی بنایا ہے اور قانونی کی نگرانی کو زمینی حقیقت بناکر دکھایا ہے۔ شمس میر نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ وہ مافیا ہے جس کے نزدیک کرپشن، جھوٹ اور منافقت سب جائز ہے۔ یہ لوگ کبھی نسلی سیاست کرتے ہیں تو کبھی لوکل نان لوکل کی سیاست کرتے ہیں۔ بھی علاقائیت تو کبھی فرقہ واریت کی سیاست ان کا شیوہ ہے۔ پیپلز پارٹی کا سابقہ دور گلگت بلتستان کا سیاہ ترین دور تھا۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے منصوبے، گڈ گورننس اور تعمیر و ترقی آج ایک زمینی حقیقت ہے۔ امجد ایڈووکیٹ اور اس کے ھواری جتنا جھوٹ بولیں مگر سکردو روڈ جیسا حفیظ الرحمن کا ایک منصوبہ ہی پیپلز پارٹی مافیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ حفیظ الرحمن نے قومی لیڈر ہونے کا حق ادا کر دیا ہے اور جو کہا وہ کر دکھا یا۔ شمس میر نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ میں تھوڑی بھی شرم اور سچائی کا تھوڑا جراثیم بھی ہے تو وہ ہمارے منصوبوں کیخلاف نیب میں جائے، عدالت جائے اور ثابت کرے کہ ان منصوبوں میں شفافیت نہیں۔ بصورت دیگر وزیر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور گلگت بلتستان کی عوام سے اپنے جھوٹ پر معافی مانگے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے منصوبے بن رہے ہیں۔ سیاحت سے لاکھوں لوگوں کو روزگار میسر آرہا ہے اور امن کی فضا نے گلگت بلتستان کو عوالمی سطح پر پُرامن اور ترقی کرتا تیز ترین صوبہ قرار دیا ہے۔ ایسے میں چند اخبارات امجد ایڈووکیٹ اور اس کے حواریوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو شہ سرخیوں میں جگہ دیتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ وہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں امجد ایڈووکیٹ مافیا نے گلگت بلتستان کو دیوالیہ کر دیا تھا۔ اداروں کو تباہ کر دیا تھا اور کرپشن پیپلز پارٹی کا دوسرا نام تھالیکن آج کچھ اخبارات انہی بدنام زمانہ مجرموں کے بیانات کو چار چاند لگا کر چھاپتے ہیں۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ یہ صحافت کے ارفع اصولوں اور گلگت بلتستان کے عوام سے بددیانتی ہے۔ شمس میر نے کہا کہ شیڈول فور حساس قومی سول و آرمڈ اداروں کا بذنس ہے اور نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے مگر یا جانتے ہوئے بھی وزیر اعلیٰ پر امجد ایڈووکیٹ اور اس کے حواریوں کی تنقید بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شمس میر نے کہا کہ اب قانون کی بالا دستی ہوی اور امجد ایڈووکیٹ جیسے انتہاپسندوں کوعلاقے کے امن سے کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے اور نہ ہی کرپشن کی کھلی چھوٹ ملے گی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کی پیپلز پارٹی مافیاز کا گروہ ے جسے گلگت بلتستان میں قانون کی بالادستی، تعمیر و ترقی، امن و استحکام ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ے کہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن ان کی آنکھ کا کانٹا بنا ہوا ہے اور آئے روز یہ لوگ حفیظ الرحمن کو اپنی بدنیتی، بغض اور حسد کو نشانہ بناتے ہیں۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام اب امجد ایڈووکیٹ مافیا کے جھوٹ پر یقین کرنے والی نہیں کیونکہ عوام نے پیپلز پارٹی کا سیادہ دور بھی دیکھا ہے اور آج روشن گلگت بلتستان کا دور بھی دیکھ رہی ہے اور حفیظ الرحمن کے عظیم عوامی منصوبے وہ سچ ہیں جنہیں امجد ایڈووکیٹ اپنے جھوٹے اور حسد سے لبریز بیانات سے دبا نہیں سکتا۔ شمس میر نے کہا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ صرف قانون کے دائرے میں خدمات انجم دیتا ہے۔ امجد ایڈووکیٹ پاس اگر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کیخلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ نیب میں یا عدالت سے رجوع کریں۔ کسی بھی قانونی کارروائی میں میرا تعاؤن امجد ایڈووکیٹ کو حامل ہوگا۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ اداروں پر الزامات نہ لگائیں وہ خود اعلیٰ عدلیہ کی توہین کے مرتکب ہیں
677









