گلگت(پ ر)وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گلگت بلتستان میں کم از کم ایک سال سے کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے ڈاکٹروں کو اسمبلی ایکٹ کے تحت مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں خصوصی بورڈ قائم کیا گیا ہے جو کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کا انٹرویو لے گا اور کاغذات کی جانچ پڑتال کرے گا۔ صوبائی کابینہ اجلاس میں دیامر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو صحت کے بہت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے بحیثیت وزیر اعظم گلگت بلتستان کے دورے کے موقع پر ہدایت دی تھی کہ ڈاکٹروں کیلئے خصوصی پیکیج دیا جائے تاکہ ڈاکٹروں کی کمی کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کئے جاسکے اور دور دراز علاقوں میں بہتر طبی سہولیات کی فراہم کو یقینی بنایا جاسکے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت ڈاکٹروں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا۔ تین سال قبل گلگت بلتستان میں 190ڈاکٹرز موجود تھے لیکن صوبائی حکومت کے اقدامات اور اصلاحات کی وجہ سے آج گلگت بلتستان میں 420ڈاکٹرز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ڈاکٹروں کی کمی کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اسمبلی ایکٹ کے تحت ڈاکٹروں کو مستقل کیا جارہاہے۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کی سربراہی میں ایک بورڈ تشکیل دیا جارہاہے جو ڈاکٹروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اور انٹرویو کرے گا جس کے بعد ایک سال تک کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے ڈاکٹروں کو مستقل کیا جائے گا۔ صحت کا شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ڈاکٹروں کی شفاف پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے احکامات دیئے اور کہاکہ ڈاکٹروں کے حوالے سے شفاف پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی متعارف کرائی جائے اور اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائی جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ دیامر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جس کے تحت نئے تعلیمی ادارے تعمیر کئے جائیں گے سکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کی جائے گی انرولمنٹ میں اضافے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے سکولوں کا معیار بہتر بنایا جائے۔کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پورے گلگت بلتستان کو ایک محفوظ صوبہ بنایا جائے گا جس کے لیے تمام ادارے یکسوئی سے کام کر رہے ہیں۔ حکومت اور صوبے کی عوام نے تعلیم دشمن عناصر کی کارروائیوں کو مسترد کیا ہے اور حکومت کی جانب سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ضلع دیامر کو زیادہ سے زیادہ تعلیمی سہولیات فراہم کیا جائیں۔ اس سلسلے میں گلگت بلتستان کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ضلع دیامر میں تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کی زیادہ سے زیادہ آسامیاں فراہم کی جائیں۔ ضلع دیامر کو ایمرجنسی بنیادوںپر سکولوںمیں مزید اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیئے جائیں گے۔ دیامر میں پانچ سال سے اوپر کی عمر کے بچوںکو فوری طور پر سکولوں میں داخل کرایا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ بچوں کی کاونسلنگ اور نگہداشت کے لیے بھی حکومت سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔
719









