گلگت—-کارگاہ نالے میں دہشتگردی کے واقعہ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ، مشیر اطلاعات شمس میر اور ڈی آئی جی گوہر نفیس نے کہا ہے کہ کارگاہ نالہ کا دیامر سے توجہ ہٹانے کی سازش اور کوشش تھی ۔اس واقعہ میں گلگت بلتستان پولیس نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیامر کے متعددواقعات میں مطلوب دہشتگرد کمانڈر خلیل کو موقع پر ہلاک کردیا ہے جس کے سر کی قیمت 30لاکھ روپے مقرر تھی اور گزشتہ کئی سالوں سے مفرور تھا۔گلگت بلتستان حکومت پولیس ریکارڈ کے مطابق ہر ایک دہشتگرد کا تعاقب کریگی اور انہیں منطقی انجام تک نہیں پہنچانے تک چین کی نیند نہیں سوئے گی ۔ کارگاہ نالہ واقعہ میں شہید ہونے والے پولیس جوانوں کے ورثاء کے لئے شہداء پیکج کے علاوہ وزیراعلیٰ جی بی خصوصی پیکج بھی جلد دیا جائیگا جبکہ واقعہ میں ذخمی ہونے والوں کو اعزازی طور پر غازی کا خطاب دیا جائیگا۔ آئی جی پی آفس گلگت میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق کل 8دہشتگرد تھے اور ان کا ہدف گلگت تھا ان کو کارگاہ تک محدود رکھ کر جی بی پولیس نے گلگت کو بڑی تباہی سے بچالیا ہے ۔ گلگت بلتستان پولیس نے شجاعت اور بہادری کی پورے ملک کے لئے ایک مثال قائم کردی ہے ۔ دہشتگردوںکے حملے میں تین جوان جام شہادت نوش کرگئے جبکہ دو زخمی ہیں جبکہ پولیس کی جوابی کاروائی میں دو دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں اور دو زخمی ہیں پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہیں آئندہ لمحات میں ان کو گرفتار کرنے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع مل چکی تھی کہ دہشتگرد گلگت کی طرف رخ کرسکتے ہیںاور وہ داریل تانگیر سے نالوں کی طرف نکلے ہیں۔ لیکن اس بات کی معلومات نہیں تھی کہ وہ کس نالے سے گلگت آئیںگے جس کی وجہ سے پولیس نے گلگت کی طرف آنے والے تمام نالوں میں سیکیورٹی کو دگنا کرکے مکمل چوکس رہنے کا حکم دیا تھا، پولیس کے چوکس رہنے کی وجہ سے ہی دہشتگردوں کی مزید پیش قدمی نہیں ہوسکی ہے ۔ جن پولیس جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ان کی قربانیوں کو سنہرے حروف میں لکھا جائیگا۔ گلگت بلتستان حکومت دیامر میں ہونے کسی واقعہ اور سانحہ کو نہیں بھولی ہے ۔ پولیس ریکارڈ میں موجود ہر ایک مجرم اور دہشتگرد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں کسی قسم کی بیرونی امداد ،یا طاقت کی اطلاعات نہیں ہیں تمام دہشتگرد مقامی ہیں اس سے قبل بھی کئی واقعات میں کمانڈر خلیل سمیت دیگر دہشتگردی کے واقعات میں ملوث اور مطلوب تھے تاہم کئی سالوں سے یہ روپوش تھے ۔دیامر میں سکولوں کو جلانے کے واقعات کے بعد یہ دوبارہ منظر عام پر آئے ہیں اور تخریبی کاروائیوں میں مصروف ہوگئے ہیں،تاہم اب پولیس آخری دہشتگرد کو پکڑنے تک چین کی نیند نہیں سوئے گی ۔ پولیس نے دیامر میں دہشتگرد شفیع الرحمن کے تین بھائیوں کو بھی گرفتار کیا ہے اور ان سانحات میں ملوث کسی بھی بندے کو قانون کے دائرے سے باہر نہیںرکھیںگے البتہ حتیٰ الامکان کوشش ہوگی کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہوجائے ۔ جن لوگوں کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان سے تفتیش جاری ہے ۔
690









