گلگت(پ-ر ) قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن(ر)محمد شفیع نے کہا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان نے ایک سازش کے تحت عید غدیر کے اسمبلی اجلاس رکھا. سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی قانون کا مزاق نہ بنائے. یہ سیشن 12 جولائی کے لئیے پروپوز کیا تھا کبھی گورنر نے اجلاس ہونے نہیں دیا تو کبھی حکومتی ایما پر اجلاس کو منسوخ کیا گیا. حکومت نے اپنی کرپشن کو چھپانے کے لئے 3 دنوں کا اجلاس رکھوایا ہے اور ان میں سے ایک دن عید غدیر کا ہے اور اکثریتی ممبران مزہبی تہوار میں مصروف ہوتے ہیں. اپوزیشن کے تمام ممبران اس اجلاس کا بائکاٹ کرینگے اور اس اجلاس میں نہیں جائینگے. انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر اسمبلی قانون کا مزاق نہ بنائے اگر اجلاس کروانا ہی ہے تو دس دنوں کا اجلاس رکھے بزنس دینا ہماری ذمہ داری ہے. اس اجلاس کا ہم بائکاٹ کرتے ہیں. حکومت کو مزہبی تہواروں کا خیال رکھنا چاہیئے. ایک سازش کے تحت اجلاس کو نہ کروانے کے لیے عید غدیر کے دن اجلاس رکھا ہے. عید غدیر کے علاوہ باقی دو دنوں کے اجلاس میں ہم کیا بات کریں. کسی ایک ممبر کو بھی پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہیں ملے گا. حکومت اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے اسمبلی کے ساتھ مزاق نہ کرے . گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈر 2009 کے تحت اور رول آف پروسیجرز کے مطابق ایک سال میں 130 دن اجلاس میں ہونا لازمی ہے پر ہماری اسمبلی کے 3 سالوں میں صرف 76 دن اجلاس کے ہیں.بدقسمتی سے ہماری حکومت سپیکر کے کام میں جان بوجھ کر مداخلت کر رہی ہے اور سیشنز کے انعقاد کو روکتی ہے تاکہ ممبران اسمبلی ان کی کرپشن پر زیادہ بحث و مباحثہ نہ کر سکے. اب حکومت اور سپیکر اسمبلی کو اپنی روش تبدیل کرنی ہوگی. اگر اسمبلی نہیں چلا سکتے ہیں تو استعفی دے کر گھر چلے جائیں.
709









