گلگت(نامہ نگار خصوصی ) محکمہ منصوبہ بندی و ترقی گلگت بلتستان میں مانیٹرنگ نظام بنانے کی تجویز زیر غور ہے مانیٹرنگ نظام کے ذریعے ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل اور معیار کو بہتربنانے میں مد د ملے گی۔مانیٹرنگ نظام کے تحت سٹریکچرل انجینئر اور آرکیٹکچرانجینئر کی آسامیاں پر کی جائیں گی ۔ ذرائع پی اینڈ ڈی کے مطابق گلگت بلتستان ورکس ڈپارٹمنت کے پاس سٹریکچرل انجینئر اور آرکیٹکچر انجینئر کی آسامی موجود نہیں ہے، مٹیریل ٹسٹنگ لیبارٹری سکردو میں بنا نے کی منظوری دی جا چکی ہے، منیٹرنگ کا نظام کو لیبارٹری کے ذریعے پائیدار اور معیاری مٹیریل کی ترقیاتی سکیموں میں استعمال یقینی بنا یا جائے گا، ذرائع نے بتایا کہ ایسے علاقوں کی ترقیاتی سکیموں کو ترجیح دی جائی گی،جہاں عوام یا کمیونٹی ترقیاتی سکیموں کیلئے زمین بلا معاوضہ فراہم کرینگے، مانیٹرنگ نظام کے وجود میں آنے سے ٹھیکیداروں کا ٹھیکے فروخت کرنے جیسے عمل کو روکنے میں پیش رفت ہوگی اور کسی بھی ترقیاتی سکیم کو شروع کرنے سے پہلے سکیم کے ہر قسم کے مثبت اور منفی پہلوں کو جانچنے میں مدد ملے گی،نظام کے تحت ٹھیکیدار کو سکیم کے مکمل کرنے کے حوالے سے گارنٹی دینی ہوگی،مانیٹرنگ ٹیمیں ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لیتی رہے گی، ذرائع نے بتایا کہ منتخب نمائندوں کو پی اینڈ ڈی کے ساتھ مل کر ترقیاتی سکیم ضروریات کو مدنظر رکھ کر پلاننگ کرنی ہوگی، پہلے بیمار سکیمیں موجود تھی اور نئے سکیمیں دی جا رہی تھی لیکن اب پی اینڈ ڈی نے بیمار سکیموں پر کام مکمل کرنے کی طرف جا رہی ہیںاور 99%سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔
654









