قائد ملت جعفریہ سید آغا راحت حسین الحسینی نے کہا ہے کہ رواں سال گلگت بلتستان میں مثا لی امن اور مسلکی ہم آہنگی کی فضا جو قائم ہو ئی ہے اس پر میں اہلسنت کے اکا برین ، اسماعیلی کونسل ، عوامی ایکشن کمیٹی ، مساجد بورڈ ، فورس کمانڈر ناردرن ایریاز ، تمام سیکیورٹی اداروں ، پولیس آئی جی پی ، ضلعی انتظا میہ ، تحریک انصاف کنوداس کے نوجوانان سمیت صو با ئی حکومت کے شکر گذار ہیں جنہوں نے امن کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت برائے دا خلہ شہر یار آفریدی کا گلگت کا دورہ کر کے دونوں مساجد میں جاکر قیام امن کے حوالے سے جو اقدام اٹھا یا ہے ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں اور ہم ان کے مشکور بھی ہیں جنہوں نے محرم کے ایام میں دورہ کر کے بھا ئی چا رگی کے ما حول کو مزید مظبوط بنا نے میں کر دار ادا کیا اور اس مرتبہ دو افراد کے بھی جھگڑے کی اطلاع نہیں آئی ہے جو کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مر تبہ ہوا ہے جو کہ گلگت بلتستان کی قوم کے لیئے نیک شگون ہے ۔قائد ملت جعفریہ سید آغا راحت حسین الحسینی نے عاشورہ کے مرکزی جلوس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ امام حسین نے کر بلا میں قر با نی انسا نیت کی بقاء کے لیئے دی ہے امام عالی مقام نے اپنے اہل و عیال کو اسلام کی سر بلندی اور انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیئے قر بان کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں نکاح سے زیادہ طلاق کی میرے پاس شکا یات آرہی ہیں جو کہ انتہا ئی افسوس ناک بات ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل دوسروں کی ماں ، بہن ، بیٹی کے عزت و آبرو کا خیال رکھیں اور مو با ئل کا غلط استعما ل نہ کریں کی بیٹی ، بہن یا ماں کو نوکری کا جھانسہ دینے سے گریز کریں ، مو با ئل سیر کسی کی ماں بہن کو غلط میسج کرنے سے گریز کریں اور شادی کرنے کا جھانسہ دیکر کسی کی زندگی کو خراب نہ کریں اس سے ہمارے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہو نگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمای سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم حق بات کی دعوت دینے سے ڈرتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی خرابی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نوجوان نسل منشیات جیسی لعنت میں پھنسی ہو ئی ہے نوجوان نسل کو ، سگریٹ ، چرس ، افیون ، ہیروئن ، نشہ آورگو لیوں اور انجکشن سے دور رہنا ہو گا اس وقت ہمارے معاشرے میں منشیات کا رجہان بہت ذیادہ ہے اور اسی منشیات کے بدولت ہمار ی نسل تباہ ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں منشیات کی روک تھام کے لیئے حکومت سمیت قانون نافذ کر نے والے ادارے اقدام اٹھا ئیں اور گلگت بلتستان کے مستقبل کو بچا نے کے لیئے کام کریں ۔
699









