چیف سیکرٹری کا تین ماہ بعد سیلاب سے متاثرہ علاقے بدصوت کا دورہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے سواء کچھ نہیں تھا۔30 ہزار ارب کے قرضوں میں ڈوبے سرزمین پاکستان کے ایک سرکاری آفیسر نے دو درجن سے زائد بڑی اور شاندار گاڑیوں کے ہمراہ متاثرین کی اس وقت خبر گیری کی جب اس کی ضرورت ہی ختم ہوگئی تھی۔لاکھوں کا سرکاری فیول اور سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنے والوں نے ایمت بدصوت کے متاثرین کو جھوٹے اور روایتی اعلانات سے ٹرخانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جو مطالبات وہاں کے لوگوں نے پیش کئے ان کو ماننے کے بجائے چیف سیکرٹری نے صاف انکار کردیا شاید اس لئے کہ غذر کے متاثرین سوتیلی ماں کے فرزند ہیں۔تین ماہ بعد جب شہنشاہ اعلی بدصوت آہی گئے تھے تو کم از کم لوگوں کے زخموں پر مرہم پاشی ہی کرتے مگر جناب ایک بات پھر رٹی رٹائی تقریر کرکے آگئے جس کی وہاں کے لوگوں کو ضرورت نہیں تھی۔ اور ایسی تقریروں سے متاثرین کا پیٹ نہیں بھرتا۔جس علاقے کو آفت زدہ قرار دینا چاہئیے تھا شہنشاء اعظم وہاں ایس کام کا ٹاور دینے کی یقین دہانی کرکے آگئے اب بتایا جائے لوگوں کے پاس کھانے کے لئے روٹی نہیں وہ کیا اس ٹاور پر چڑھ کر خودکشی کریں؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اس معاشرے کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ملک کے اندر کفایت شعاری اور لوگوں سے چندے اکھٹے کئے جارہے ہیں مگر یہاں سرکاری ملازم بادشاہ سلامت بن بیٹھے ہیں۔
677









