گلگت(مہتاب الرحمن) جگلوٹ میں پولیس گردی کے خلاف عمائدین کا گلگت پریس کلب کے باہر سڑک بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ،شدید نعرہ بازی غدارپولیس مردہ باد کے نعرے،بعد اذاں عمائدین جگلوٹ عمران میر،محمد ضیاء الحق،محمد اشفاق،چراغ الدین،منظور میر،اسامہ قریشی ودیگر نے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جگلوٹ پولیس معزز شہریوں پر ذاتی اناد اور قومیت کی بنیاد پر تشدد اور پولیس گردی کررہی ہے گزشتہ روز عدالتی حکم امتناع لیکر جگلوٹ تھانہ جانے والے شہری شاہ فرمان کو تھانے میں زدکوب کرکے زخمی کردیا ہے جس پر سول عدالت نے پولیس گردی کے واقع پر میڈیکل کے لئے بھیجا ہے،عمائدین نے کہا کہ آئی جی پولیس اور اعلیٰ حکام نے اگر نوٹس لیکر جگلوٹ تھانے کے تمام عملے کو تبدیل نہیں کیا تو شاہراہ قراقرم بلاک کرکے دھرنا دیں گے عمائدین نے کہا کہ جگلوٹ پولیس عملہ گزشتہ 20سالوں سے تھانے میں تعینات ہیں وہاں پر موجود عملہ ریاض نامی پولیس اہلکار ولی،تھانہ ایس ایچ او سمیت دیگر تمام عملہ گروپ بندی کرے زریعے جگلوٹ کے پرامن شہریوں کو دہشت گرد بنانے پر تلے ہوئے ہیں اے ایس پی جگلوٹ کے ایماء پر جگلوٹ تھانہ کا عملہ غنڈہ گردی بھتہ خوری سمیت چوری کے وارداتوں میں خود ملوث ہیں پولیس کے اہلکاروں کے کارندے جگلوٹ میں چرس کی سرعام کاروبارکررہے ہیں،معزز شہریوں پر تشدد پولیس گردی عام ہوچکی ہے عمائدین نے وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری سمیت آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ تین روز اگر جگلوٹ تھانے کے تمام عملہ کاتبادلہ نہیں کیا گیا تو شاہراہ قراقرم بلاک کرکے دھرنا دیں گے عمائدین جگلوٹ نے کہا کہ پولیس عملہ قانون کی خود دھجیاں بکھیررہے ہیں اگر نوٹس نہیں لیاگیا تو سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔پریس کانفرنس کے موقع پر زخمی شہری نے بھی اپنے روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رات بھر تھانے میں زدکوب کیا گیا میں عدلت کی حکم امتناع کی ریلزآرڈر لیکر تھانے گیا تھا جہاں پر پولیس مجھ الجھ گئی اور مجھے ذدکوب کیا گیا اور ات بھر تھانے میں مجھے بغیروجہ کے مارتے رہے جس کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا ہے جس پر جج نے میڈیکل کے لئے حکم دیدیا ہے انہوں نے آئی جی سے انصاف کی اپیل کردی ہے۔
690









