640

موجودہ حکومت نے روزگار کا راستہ بند کر دیا ،میرٹ کے نعرے لگائے والوں نے بھرتیوں میں میرٹ کا جنازہ نکال لیا ،انجینئر محمد اسماعیل ، محمد جعفر

گانچھے پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری انجینئر محمد اسماعیل اور سابق سینئر وزیر محمد جعفر نے کہا ہے کہ زرداری حکومت نے بیرونی دباؤ کے باوجود گورننس آرڈر کے تحت صوبائی سیٹ اپ دیا ہمارے دور میں ہم نے گلگت بلتستان میں چھبیس ہزار ملازمتیں دیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں پوسٹیں نکالنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس تھا موجودہ حکومت نے اس کو وفاق کو منتقل کر دیا ہے یہ بات انہوں نے خپلو میں ریٹائرڈ آفیسران و عمائدین کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ موجودہ بھرتیاں ہمارے دور کی پوسٹوں پر جا رہی ہیں موجودہ حکومت نے روزگار کا راستہ بند کر دیا میرٹ کے نعرے لگائے والوں نے بھرتیوں میں میرٹ کا جنازہ نکال لیا انہوں نے کہا پی ٹی آئی میں شامل ہونا خود کشی کرنے کے مترادف ہے جتنے لوگ شامل ہوئے ہیں سرکار میں ہوتے ہوئے پارٹی کے لئے کام کرتے تھے ۔موجودہ حکومت نے لوگوں سے روزگار چھینا گیا ہمارے دور میں بھرتی کئے گئے لوگوں کو نکالا گیا ان کا منشور ٹھیکہ لینا ہے اثاثہ بنانا ہے آئندہ حکومت گلگت بلتستان میں پی پی پی کی بنے گی حق ملکیت ، گلگت بلتستان کا آئین اور پی پی کی حکومت بنی تو ایک لاکھ ملازمت دینا منشور میں شامل ہے چالیس سیٹوں پر میرٹ کے نام ٹیسٹ انٹرویو کر کے غریب جوانوں کو بے وقوف بنایا ایکسین تعمیرات نے حفیظ کے دئیے گئے لسٹوں پر بھرتی کر کے راتوں رات بھاگ گئے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سئنیر رہنما چیرمین ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے ڈویڑنل صدر شہزاد آغا نے کہا کہ سابقہ عہدیداروں کی وجہ سے پارٹی کے لوگ چھوڑ کر چلے گئے پارٹی کمزور ہوئی پارٹی میں بڑے معززین آئے عزت نہ ملنے کی وجہ سے پارٹی چھوڑ گئے عہدیدار آنے والوں کو سنبھالیں یہ پارٹی کے قائدین کا فرض ہے سینٹر بن کر آنے والوں کو عزت نہیں دے گا تو پارٹی چھوڑ کر چلے جائیں گے ن لیگ جمہوری پارٹی نہیں ہے عوام کے پیسوں کو لوٹ کھسوٹ کھا رہے ہیں پی پی غریبوں کی جماعت ہے کنٹیجنٹ ملازمین کے ساتھ ہے بلتستان ریجن انکے ساتھ کھڑے ہیں حکومت فوری انکے مطالبات کو منظور کئے جائیں انہوں نے کہا کہ ہم پر نوکریاں فروخت کرنے کا الزام لگانے والوں نے میرٹ کا جنازہ نکال لیا ہے حقداروں کا حق چھینا گیا صوبے میں بیوروکریسی کی حکومت ہے مولوی حفیظ صرف وزیر اعلیٰ بنا ہؤا ہے کیونکہ حفیظ سرکار نے بیوروکریسی کے ذریعے پروجیکٹس میں پیسہ کمانا ہے انکے آگے بے بس ہے گلگت بلتستان میں کسی کو روزگار کی ضرورت ہے تو بیوروکریسی کے گھروں پر کام کریں تو ملازمت ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں