استورچیف جسٹس چیف کورٹ جسٹس وزیر شکیل احمد کا استور جوڈیشری کا دورہ ، سول کورٹ استور میں زیر سماعت مقدمات میں سست روی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے لیکن استور سول کورٹ کی کارکردگی سے بہت مایوس ہوا ، جلد اس معاملے کے حل کیلئے اقدامات اٹھائونگا کیونکہ حکومت ستے اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے بھاری اخراجات فراہم کررہی ہے روزانہ کم از کم چار مقدمات کو نہ نمٹانا تنخواہ حرام کرنے کے مترادف ہے ، سول جج استور سے ماہوار مقد مات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو ماہ سے صرف دو مقدمات کا نمٹانا میرے لئے مایوس کن بات ہے اور میں بحیثیت چیف جسٹس شرمندہ بھی ہوں ،اس پر مزید سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا، وکلاء نے مقدمات پر تاخیری فیصلہ سول کورٹ اور سیشن کورٹ میں طویل فاصلے کو قرار دیدیا ،چیف جسٹس نے سول کورٹ شونٹر کا دورہ کیا زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لیا ، مقدمات زیادہ سے زیادہ ایک سال کے اندر نمٹانے کی ہدایت کر دی ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا دورہ کرتے ہوئے کمرہ عدالت کا افتتاح بھی کیا ، وکلاء و ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف اور سچائی مومن کی میراث ہے اس کو بر قرار رکھنے کیلئے ہمیں تمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہوگا ، وکلاء سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرم کو بچانے کیلئے عدل و انصاف اور سچائی کو دائو پر مت لگائیں کیونکہ مجرم کو بچانے کا مقصد معاشرے کو غیر متوازن بنانے میں آپ کا کردار شامل ہوتا ہے ۔ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استور سمیت پورے گلگت بلتستان میں عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ملازمین کو میرٹ اور ان کی سنیارٹی کے مطابق مستقل کیا جایگااور ملازمین کی استدعا پر تمام اضلاع سمیت استور میں جوڈیشل کالونی کیلئے اقدامات اٹھائونگا کیونکہ میں نے میرٹ اور عدل و انصاف کی بحالی کا حلف لیا ہے ۔ چیف جسٹس کی استور دورہ کے موقع پر وکلاء نے کھچ کے مقام پر پرتپاک استقبال کیا ، استور سول کورٹ میں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی ، اس موقع پر رجسٹرار چیف کورٹ احمد جان ، سیشن جج منہاس حسین ، سول جج استور ہجیب اللہ ، سول جج اجلال حسین اور وکلاء کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ، صدر ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے عبدالحمید نے چیف جسٹس کو رویتی چوغہ اور ٹوپی پیش کی جبکہ رجسٹرار کوبھی روایتی ٹوپی پیش کی گئی ۔
683









