770

ہمیں حسینی دعویداری سے نکل کر حقیقی حسینی اقدار اور سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے،مولانا سلطان رئیس

گلگت(عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے کہا ہے کہ جب تک ہم حسینی کردارگفتار اور اقدار کو نہ اپنائیں تب تک ہم حسینی دعوے دار تو ہوسکتے ہیں لیکن حقیقی حسینی نہیں بن سکتے انہوںنے اتوار کے روز گلگت میں یوم حسین کی تقریب جس میں ہزاروں افراد نے کی شرکت کی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عجیب حسینی ہیں سال کے گیارہ مہینے بیس دن اپنے پڑوسی کو راستہ بند کرتے ہیں پانی بندکرتے ہیںمگر محرم کے دس دن سبیل لگاتے ہیں گیارہ مہینے دس دن اپنے پڑوسی اوران بچوں کو بھوکا بلکتے دیکھنے کے باوجود اپنے گھر میں عیاشی کرتے ہیں جب محرم کے دس دن آتے ہیں تو لنگر لگاتے ہیں یہ حسینی سوچ نہیں ہے ایک دعویدار کی سوچ ہے ہم حسینی دعویداری سے نکل کر حقیقی حسینی اقدار اور سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے جب ہم حقیقی حسینی بن جائینگے تو اس علاقے میں جہاں کہیں پر بھی حسینیت کے خلاف اٹھے گا تو اس کو روکنے کیلئے ہر شخص حسینی کردار ادا کریگا انہوںنے کہا کہ اس طرح کے محافل کا انعقاد ضروری ہے تاکہ نوجوانوں میں حسینی سوچ ،کردارگفتار اور اقدار منتقل ہوں اگر حسینی پروگرام صحابہ کے پروگرام نہیں ہونگے تو سرینا ہوٹل جیسے منحوس پروگرام ہونگے جہاں پر لوگوں کے بچے اور بچیاں ڈانس کرینگی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامع موتی مسجد کے امام جمعہ والجماعت مولانا خلیل قاسمی نے کہا کہ اس طرح کے بڑے پروگرام کے انعقاد سے کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے اس خوبصورت محفل کو دوام بخشنے کیلئے کھلے دل کا مظاہرہ کرناہوگا انہوںنے کہا کہ حسین کی شخصیت کی گفتگو کے ساتھ ساتھ اہل بیت رسول کی عظمت پر بھی گفتگو ہونی چاہیے صحابہ کرام کی سیرت پر مبنی گفتگو ہونی چاہیے جس کے بعد ہم علاقے میں ایک پرامن معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے جس کے بعد گلگت بلتستان پورے علاقے کیلئے رول ماڈل بن جائیگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوربخشی عالم دین مولانا شکور علی انور نے کہا کہ ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے یوم حسین کی طرح یوم حسن بھی منانا چاہیے اتفاق اوراتحاد ایک عظیم نعمت ہے یہ دولت بھی ہے اور برکت بھی ۔اسماعیلی کونسل کے ممبر الواعظ کریم خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین کو پہنچانے کی ضرورت ہے حسین صرف ذات کا نام نہیں نظریے کا نام ہے جو بھی دعویٰ کرتا ہے کہ میں حسینی ہوں وہ اپنے آپ سے سوال کرے کہ کیا وہ واقعی میں حسینی ہے ؟جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے رہنما مولانا عطاء اللہ شہاب نے کہا کہ ہم اتفاق کی باتیں نہیں کرتے ہمیں اتفاق کی باتیں چبھتی ہیں انتشار کی باتوں پر واہ واہ کرتے ہیں پاکستان کی سرزمین کے اندر ناموس رسالت کو چیلنج کیا جارہاہے اور مختلف طبقے ان کا ساتھ دے رہے ہیں پاکستان میں طاغوتی قوتوں کی فرمائش پر ناموس رسالت کو چھیڑا جارہا ہے جبکہ عدالت کے پیج و غم میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ گلی کوچوں میں یزید للکار رہا ہے حسینیت کے علمبردار ایک ہو جائیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر مساجد بورڈ راجہ نثار ولی نے کہا کہ جب تک ہم آپس میں نہیں ملیں گے دوسرے ہمیں خراب کریں گے کیونکہ لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی چلتی رہی ہے لیکن جب ہم آپس میں ملیں گے تو کوئی ہمیں خراب نہیں کرسکتا انہوںنے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے ہم آپس میں راضی کیوں نہیں ہوتے ہم آپس میں مل بیٹھ کربحث و مباحثے سے معاملات حل کیوں نہیں کرتے اصل حسینیت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں ایک دوسرے کے مسلک کو نہ چھڑیں لیکن ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کریں ۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ہم ایک دوسرے سے دورہوتے گئے مجھے یاد ہے 1955-56میں حالات بہت اچھے تھے ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہوگا اس دورمیں شیعہ سنی بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے ہم نے کبھی بھی قربانی کے حصے میں شیعہ بھائیوں کو مس نہیں کیا ،اس وقت ایک تعلق داری تھی محبت تھی بازار بند نہیں ہوتے تھے لیکن 60اور 70کی دہائی کے بعد سے ایسی دشمنی پیداہوئی کہ بھائی نے بھائی کو مارنا شروع کیا ہمسایوں نے اپنے ہمسایے پر حملہ کرنا شروع کردیا گلگت کا بدلہ داریل سے بسین کا بدلہ کشروٹ سے لینا شروع کیا بعد میں ہمارے علماء ہمارے بہادر لوگ میدان میںنکلے اور مصالحت کی کوشش کی یہی وجہ ہے کہ آج یہاں تمام مسالک کے لوگ امن و بھائی چارے سے بیٹھے ہیں یہ حسین کے نام کی مہربانی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں انہوںنے کہا کہ اصل چیز یہ ہے کہ حسین کے نقش قدم پر چلیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے میں اہل سنت ہوں مجھے چاہیے کہ مجھے حضورپاک کی سنت پر عمل کریں اگر نہیں کرتا تو میں کس طرح کا اہل سنت ہوگاحسینی وہ ہیں جو حسین کی سیرت پر عمل کریں آپ جلوس نکالیں ہم احترام کریں گے پہلے دل آزار نعرے لگتے تھے اب نہیں لگتے کیونکہ ہم خود جلوس میں شریک ہوتے ہیں اسی طرح کا مظاہرہ پورے گلگت میں ہونا چاہیے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استورامامیہ مسجد کے امام جمعہ و الجماعت سید عاشق حسین الحسینی نے کہا کہ امام حسین نے اپنی قربانی سے شریعت محمدی اور رسالت محمدی کو بچایا امام حسین تمام انسانوں کے محسن ہیں امام حسین نے کربلا کو رزم گاہ سے درسگاہ میں تبدیل کیااس درسگاہ سے اطاعت،عبادت ،شجاعت ،استقامت اور صبر وشکر کا درس ملتا ہے یوم حسین کی تقریب سے شیخ بلال سمائری ،فدا علی ایثار ،وزیرمظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں