قائد حزب اختلاف محمد شفیع خان نے کہاہے کہ پی پی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر اپنا ہم نوا بنالے یا پھر آئینی حقوق کے حوالے سے بڑ ی بڑی باتیں نہ کرے۔محمدشفیع نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کے روز گلگت بلتستا ن کی آئینی حیثیت کے حوالے سے ہونے والی سماعت کے دوران جب اٹارنی جنرل نے مزید مہلت طلب کی تو چیف جسٹس نے مزید مہلت دینے سے انکارکیا مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئررہنما اعتزاز حسن نے گلگت بلتستان کے عوام کی حمایت میں چیف جسٹس آف پاکستان کی تائید کرنے کی بجائے اٹارنی جنرل کی حمایت کی اور ایک بار پھر آئینی حقوق کیس کی سماعت 3دسمبر تک ملتوی ہوگئی ۔انہوںنے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی قیادت کو آئینی حقوق کے حوالے سے بریفنگ دے کر ان کی حمایت حاصل کریں یا پھر گلگت بلتستان میں آئینی حقوق کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں کرنا چھوڑدے۔انہوںنے کہا کہ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورے کے دوران اپوزیشن ممبران ان سے ملاقات کر کے آئینی حقوق کے مسئلے پر بریفنگ دینے کی کوشش کریںگے۔انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے پی کے کی اراضی پر قبضہ کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے ہم صرف اپنا جائز اور قانونی حق مانگتے ہیں اس لئے ہم وفاقی حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک غیرجانبدار کمیشن بنا کے گلگت بلتستان کے صوبہ کے پی کے کی حدود کا تعین کا فیصلہ کریں اور اس تنازعے کو ختم کرانے میں کرداراداکریں۔
697









