گلگت(چیف رپورٹر)ریفارمز پیکیج 2018انسانی آئینی اور عالمی قوانین کا مکمل خلاف ورزی کی گئی ہے۔وزیر اعلی نے گلگت بلتستان کے ساتھ دشمنی کی انتہا کردی اگر اس پیکیج کو واپس نہیں لیاگیا تو حالات کی تمام تر زمہ داری حکومت پر عائد ہوگی یہ بات اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن شفیع نے میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا انھوں نے کہا کہ ہمارے اوپرایف سی ار کا کالاقانون لاگو کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسا قانون تو مقبوظ کشمیر میں بھی لاگو نہیں ہیں جو قاری سرکار یہاں پر لاگو کرنا چاہتی ہے مگر ہمارے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا گلگت بلتستان کسی کی باپ کی جاگیر نہیں ہے جو دل میں آئے وہ فیصلے کرے اگر اس نام نہاد کالے ایف سی آر کو واپس نہیں لیا گیا تو وہی ہوگا جو کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا اور اس کی ساری زمہ داری قاری کے اوپر عائد ہوگی۔انھوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی حفیظ الرحمن نے وفاق کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس پیکیج کے آنے کے بعد کچھ بھی نہیں ہوگا اور عوام اس کو مسترد نہیں کرینگے اور میں گلگت بلتستان میں حالات کو کنٹرول کروں گا یہ وعدہ کرکے اس کالے ایف سی آر کو قاری سرکار نے یہاں پر نافذ کروانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے اور گلگت بلتستان سے غداری کی ہے جس کا جواب بہت جلد اس کو مل جائے گا ہم اس پیکیج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس میں انسانی حقوق کو سلب کیا گیا ہے ائینی حقوق نہیں ہے انتظامی حقوق وزیر اعظم کو دیئے گئے ہیں تو پھر گلگت بلتستان اسمبلی کا بحال رکھنے کا کیا فائدہ۔لہذا گلگت بلتستان اسمبلی کو ختم کیا جائے کیونکہ اس پیکیج کے بعد جی بی اسمبلی کا کوئی بھی کردار باقی نہیں رہتا ہے۔حکومت کسی بھی شخص کو 6ماہ کے لئے قید کرسکتی ہے اور کہیں پر بھی زمین کو زبردستی قبضہ کرکے اٹھا سکتی ہے مگر عوام نہ ہی آواز اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی عدالت میں کیس کر سکتے ہیں کیونکہ عدالتی فیصلے کا طلاق وزیر اعظم پر نہیں ہوگا پھر گلگت بلتستان کے عوام کہاں جائیں جس شخص کو ہم ووٹ نہیں دے سکتے وہ کس قانون کے تحت ہمارے سیاح و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔وزیر اعلی نے جو وعدہ کرکے کالے ایف اسی آر کو لاگو کرنے کی کو شش کی ہے ہم اس کو کسی بھی صورت میں نافذ نہیں ہونے دینگے اور جو کچھ بھی ہوگا اس کی زمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس نئی ایف سی آر کی وجہ سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں جو امید کی کرن جاگی تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے اور جی بی کے نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں جو ایک خطرناک ترین الارمنگ اور حساس معاملہ ہے لہذا اس پیکیج کو روکا جائے ورنہ حالات کی زمہ داری حکومت پر ہوگی۔اگلے فیز میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں عوامی تحریک کو فعال کرینگے۔
711









