گلگت (چیف رپورٹر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 علاقے کی شناخت پر سرجیکل سٹرائیک کے مصداق ہے۔حفیظ سرکار نے جان بوجھ کر گلگت بلتستان کے تمام تر عوامی اختیارات وزیر اعظم کے حوالے کر دئے۔2009 میں جب آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو نیم آئینی,انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات سونپے تب سے یہ اختیارات حفیظ الرحمٰن کو کھٹک رہے تھے اور انہوں نے قاتل پیکیج کا نام دیا تھا بلاخر وہ اپنی سازشوں میں کامیاب ہو گئے اور گلگت بلتستان کے عوام سے تمام اختیارات چھین کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔اس فیصلے کا نفاذ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں اس طرح کی بے اختیار اسمبلی کی کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔یہ پیکیج ضیاالحق کے گماشتوں کی ذہنی پراگندگی کا آئینہ دار ہے۔گلگت بلتستان کے عوام میں یہ شعور اجاگر ہوچکا ہے کہ نواز لیگ گلگت بلتستان کے عوام کی ہمدرد نہیں بلکہ غداری کی مرتکب ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اسطرح کی بے اختیار اسمبلی کا وجود گلگت بلتستان کے عوام کے وقت اور وسائل کے ضیاع سے زیادہ کچھ نہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے اضافہ کیا گیا ہے۔ نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے اپنے دور کے اختتام سے چند روز قبل ان ترامیم کے ذریعے وفاق پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کی ہے۔گلگت بلتستان کے عوام متفقہ طور پر ان غیر آئینی اور غیر جمہوری ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
708









