595

27مئی کووزیر اعظم کے متوقع دورہ گلگت کے موقع پر پورے گلگت بلتستان کو جام کردیں گے

گلگت(سٹاف رپورٹر )متحدہ اپوزیشن کے رہنما و رکن اسمبلی جاوید حسین اور کیپٹن (ر) محمد شفیع نے کہا ہے کہ حفیظ الرحمن گلگت بلتستان آرڈر 2018کو علاقے میں زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر وزیراعلیٰ کو اس پر عوامی رد عمل کا اندازہ ہی نہیں ہے اگر گلگت بلتستان آرڈر کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو عوا م ایسا رد عمل دیں گے کہ گلگت بلتستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔انہوںنےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ اپوزیشن نے لائحہ عمل تیارکرلیا ہے متحدہ اپوزیشن کے رہنما اس وقت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں عوام کو متحرک کررہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی اورمرکزی انجمن تاجران سے مسلسل رابطے میں ہیں 27مئی کووزیر اعظم کے متوقع دورہ گلگت کے موقع پر پورے گلگت بلتستان کو جام کردیں گے انہوںنے بتایا کہ ہم 27مئی کو قانون ساز اسمبلی کے اجلا س کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ تمام رابطہ سٹرکوں کو بند کرنے پر غور کررہے ہیں ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ گلگت بلتستان آنے والی نسلوں اور مستقبل کا مسئلہ ہے اس لئے متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوںنے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے یک نکاتی ایجنڈے پرمتفق ہوئے ہیں اب یہ کسی فرد واحد کا مسئلہ نہیں رہا یہ گلگت بلتستان کے عوام کا مسئلہ بن چکا ہے اگر آج ہم اس مسئلے پر خاموش رہے تو ہم مزید ستر سال غلامی میں گزاریں گے اس لئے ہم گلگت بلتستان کے غیور عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور کردار ادا کرے بصورت دیگر آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرینگے۔انہوںنے بتایا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم خواتین اوربچوں کو لے کر سٹرکوں پر آئیں گے اور گلگت بلتستان آرڈر 2018کو نافذ ہونے سے روکنے کیلئے ہر جائز اورقانونی حربہ استعمال کریں گے انہوںنے بتایا کہ ہمیں اندازہ ہو چکا ہے کہ گلگت بلتستان آئینی صوبہ نہیں بن سکتا ہے اس لئے اب ہم متفقہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے اس سے کم ہم کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریںگے ۔انہوںنے کہا کہ پیکیجز اور آرڈر پہ آرڈر سے گلگت بلتستان کے عوام تنگ آئے ہوئے ہیں اب ہمیں مکمل آئینی حقوق دئیں جائیں ہم کسی بھی طرح کے پیکیز اور آرڈر کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار یہاں کے پشتنی باشندوں کو ہے باہر سے آئے ہوئے مہاجرین کو گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں