وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اس دن کو منانے کا مقصد ہمیں 71سال پہلے آزادی کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنا اور تجدید عہد کرنا ہے کہ آزادی کے ثمرات عام عوام تک پہنچے اور اس بات کو بھی سمجھنا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے مقاصد کیا تھا اور ہمارے آباؤ اجداد نے کن مقاصد کیلئے قربانیاں دی تھیں۔ آج کے دن ہم نے اپنے آزادی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ تسلط کیخلاف اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑی اور گلگت بلتستان کے خطے کو آزاد کرایا۔ ہمارے آباؤ اجداد نے آزادی کی جنگ لڑی آزادی کا نظریہ اور جذبہ پاکستان کی آزادی سے ملا تھا۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اسی لئے ہمارے آباؤ اجداد نے گلگت بلتستان کو جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑ کر آزاد کرایا اور نظریہ پاکستان اور اسلام کے نام پر بننے والے وطن عزیز پاکستان کیساتھ الحاق کیا۔ آزادی گلگت بلتستان کی تاریخ طویل اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ آزادی گلگت بلتستان کا اصل مقصد تکمیل پاکستان ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن ہیں جو ملک کی دفاع اور سلامتی کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ آج بھی بھارت کی غاسبانہ کارروائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج بھی گلگت بلتستان جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے پورا نہیں کرپایا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جس کے پیچھے دنیا کی وہ ممالک ہیں جو ہیومن رائیٹس کے نام پر اقوام متحدہ میں موجود ہیں اور بھارت بھی اس کا برابر کا شریک ہے جو مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور معصوم عوام پر مظالم ڈھا رہاہے۔ آج بھی دس سے زیادہ نہتے معصوم شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج شہید کررہی ہے اور ان شہداء کو کشمیری عوام پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنا رہے ہیں۔ 71سالوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کا ہر شخص اپنے مقبوضہ کشمیر مظلوم بھائیوں کے ساتھ ہے جو آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ہمارا اذلی اور مکار دشمن بھارت مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ایسا تاثر دینے کی ناکام کوشش کررہاہے کہ گلگت بلتستان میں بھی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ گلگت بلتستان میں ایک آزادی، خودمختار اور باضابطہ نظام موجود ہے آزاد عدالتیں کام کررہی ہے اور میڈیا آزاد ہے۔ گلگت بلتستان میں رہنے والوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور ہم اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کیلئے دعا گو ہے کہ جلد از جلد انہیں بھارت کے تسلط سے آزادی ملے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم نے اس پر توجہ دینا ہے کہ بہت سے ایسے عناصر مایوسیاں پھیلانا چاہتے ہیں ان کی عزائم کو ناکام بنائیں۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے وقت گلگت بلتستان میں صرف ایک سکول موجود تھا شرح خواندگی نہ ہونے کے برابر تھی اور انفراسٹرکچر کا نام و نشان نہیں تھا آج اللہ کے فضل و کرم سے گلگت بلتستان کی شرح خواندگی تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ تعلیم کے مواقع ہر ایک دہلیز پر میسر ہے۔ جدید انفراسٹرکچر کا موجود ہے۔ آزادی کے بعد انقلابی تبدیلیاں آئی ہے۔ تعمیر و ترقی کا سفر جاری ہے۔ اب بہت سے مسائل حل طلب ہے جن کو ہم سب نے مل کر حل کرنا ہے۔ ہم نے اس معاشرے کو آلے کر بڑھنا ہے تعمیر و ترقی کے اس سفر کو آگے بڑھنا ہے۔ آزادی کے صحیح معنی یہی ہے کہ ہم اپنے ملک سے محبت کریں قانون اور آئین پر چلیں اور گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی آگے بڑھائیں۔ گلگت بلتستان میں آنے والا ہر سیاح پوری دنیا میں ملک اور گلگت بلتستان کا مثبت تشخص اجاگر کررہاہے۔ آج کے دن ہمیں اس بات کی تجدید کرنی ہے کہ جو کوتاہیاں اور غلطیاں ہم سے ہوئی ہے ان کو آئند ہ نہ دہرائے اور آئندہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ مجھے امید ہے کہ ہر آنے والا سال گلگت بلتستان کے عوام کیلئے اور پاکستان کے عوام کیلئے خوشخبریوں کا سال ہوگا۔ مایوسیوں کا خاتمہ ہوگا اور انشاء اللہ مایوسیاں پھیلانے والے ہمیشہ ناامید ہوں گے۔
729









