گلگت(سپیشل رپورٹر) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر (ر) کیپٹن شفیع خان کی توجہ دلانوٹس پر بحث کرتے ہوئے محکمہ سیاحت کی کارکردگی پر حکومت اور اپوزیشن ممبران برس پڑے،بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیرقانون اونگزیب ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے ہت سے ایونٹ منعقد کرایا اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے خطیر بجٹ بھی فراہم کیا ہے اب حکومت اور کیا کرسکتی ہے محکمہ سیاحت کے وزیر صرف لاکھوں گلگت بلتستان آنے کا رٹ لگاتے ہیں یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ سیاح آرہے ہیں مگر ان کو کیا سہولیات فراہم کی جاتی ہیں یہ بتایا جائے،سیاحت کا کے مختص بجٹ کہاں پر خرچ ہورہا ہے بابوسر روڈ پر تو تھک نیاٹ کے رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت فرسٹ ایڈ کی سہولت لیکر سیاحوں کی خدمت میں ہیں جبکہ محکمہ سیاحت کا کوئی بندہ یاان کا کوئی سہولت نظر نہیں آرہا ہے انہوں نے کہا کہ بابوسر روڈ پر شام 6بجے کے بعد جانے پر پابندی ہے اور وہاں پر جانے والوں کو رات بھر روکا جارہا ہے اپنی زیادہ سکیورٹی کے وسائل وہاں پر فراہم کرنے کے باوجود سیاحوں کو کیوں روکا جارہا ہے وہاں پر پولیس سے زیادہ تو تھک رضا کار کام کرتے ہیں ہم ان کی کاوش کو سراہتے ہیں صوبائی وزیرنے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے ممبران اسمبلی پبلک ٹائلیٹس کی تعمیرکا رونا روتے ہیں عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا ہے؟محکمہ سیاحت کے ذمہ داروں سے سختی کے ساتھ پوچھا جائے اس سے قبل بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لاکھوں سیاح آتے ہیں مگر ان کے لئے کوئی سہولت میسر نہیں ہے اگر اس خطہ میں ہم سیاحت پر توجہ دیں گے تو ہمار خطہ بہت ترقی کریگا،ملائشیا، دوبئی اور ترکی جیسے ممالک نے سیاحت کے شعبہ پر توجہ دیکر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے مگر ہمارے پاس سیاحت اتنے زیادہ مواقع ہونے کے باوجود ہم ترقی نہیں کرپاتے ہیں اگر ہم ترقی اور ملائشیاء کے ماحول اور وہاں کی پالیسی بیان کرتے ہیں تو ہمارے جذباتی لوگ ہم پر کفر کے فتویٰ لگا تے ہیں اپنے آپ کو سب بہتر مسلمان کہنے والوں کو میں وثوق سے کہتا ہو ں کہ آپ سے زیادہ ملائشیا اور ترکی میں مسلمان ہیں جہاں پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے لئے بہتر ماحول او رسہولیات فراہم کرتے ہیں اور اپنا زرومبادلہ کماتے ہیں صوبائی وزیرنے کہا کہ گلگت بلتستان میں محکمہ تعیرات کے زیرانتظام 200ریسٹ ہاوسز ہیں مگر ان میں صرف چند فعال ہیں باقی سارے بند پڑے ہیں ہم نے اس دفعہ ان تمام ریسٹ ہاوسز کو پرائیویٹ پاٹنرشب میں دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کام آخری مراحل میں ہے،بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر ویمن ڈولپمنٹ ثوبیہ جبین نے کہا کہ بابوسر روڈ پر سیاحوں کا بہت رش ہے مگر وہاں پر واش رومز کی سہولت نہیں ہے وہاں پر سیاحوں کو درپیش مشکلات سے ہمیں خود شرمندگی کا سامنا ہوا،بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن اسمبلی حاجی رضوان علی نے نے کہا کہ سیاحت کے حوالے سے ضلع نگر ایک منفرد مقام رکھتا ہے مگر وہاں پر سہولت نام کی کوئی چیز نہیں ہے نگر میں پسن ویلی ٹو ہسپر روڈ کی تعمیر سیاحت کے لئے نیک شگون ثابت ہوگا حکو مت اس منصوبے پر توجہ دے اس دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی رجہ جہانزیب نے کہا کہ سیاحت کے لئے گلگت بلتستان بھر میں بہت مواقع ہیں وہی غذر بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے مگرشاہراہ غذر کی خستہ حالی کے باعث سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے حکومت بتائے کہ غذر روڈ کی مرمت کیوں نہیں ہورہی ہے نوازخان ناجی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر غذر روڈ کی تعمیر کو یقینی بنائے۔اس دوران ممبران اسمبلی نے سیاحت کے لئے ایک جامع پالیسی وضع کرنے کی ضرورت پر ذور دیا۔
715









