گلگت(نمائندہ خصوصی)تحریک انصاف گلگت بلتستان کی صوبائی صدارت کیلئے کھینچا تانی شروع ہو گئی، پارٹی کے تقریباً تمام عہدیداروں نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور صوبائی صدارت کیلئے دوڑ دھوپ تیز کر دی ہے ، راجہ جلال کے گورنر بننے کے بعد صوبائی صدارت کیلئے پارٹی کے موجودہ جنرل سیکرٹری فتح اللہ خان اور سید جعفر شاہ میں بڑا ٹاکرا بتایا جا رہا ہے تا ہم تحریک انصاف کے سابق صوبائی کنوینیئر حشمت اللہ خان اور سینئر نائب صدر شاہ ناصر بھی میدان میں کود پڑے ہیں، ذرائع کے مطابق لابنگ کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پہلی مرتبہ راجہ جلال کو گورنر بنانے کی افواہیں گردش کرنے لگیں ، اس سے تین دن بعد پارٹی کے اہةم رہنما نے چند سرکاری آفیسر کو ساتھ لے کر غلام سرور خان سے ملاقات کی اور یہ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے غلام سرور خان سے آئندہ صدارت کیلئے مدد مانگی ، دوسری جانب پارٹی کے جنرل سیکرٹری فتح اللہ خان بھی اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے رابطے بڑھا لیے ہیں جعفرشاہ نے خاموش ”سفارتکاری“ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ، پی ٹی آئی گلگت بلتستان کی صوبائی صدارت کے انتخاب میں ابھی کئی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ پارٹی کے اندر کئی گروپ ہیں اور یہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں، راجہ جلال اور موجودہ کابینہ ایک طرف سے جبکہ جعفرشاہ، آمنہ انصاری دوسری طرف ہے ان کے ساتھ گلاب شاہ اور چند چھوٹے کارکن بھی موجود ہیں، جعفر شاہ گروپ موجودہ کابینہ کی تحلیل کے حق میں ہے ان کے ساتھ آمنہ انصاری بھی موجود ہیں جو صوبائی قیادت کیخلاف کھل کر میدان میں ہیں۔ حشمت اللہ کو بھی ناراض رہنماﺅں میں شمار کیا جا سکتا ہے ذرائع کے مطابق یہاں مسئلہ یہ ہے کہ حشمت اللہ اور جعفر اللہ کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی یوں ناراض گروپ کے اندر بھی ذیلی گروپ پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فتح اللہ خان اور سید جعفر شاہ میں اختلافات اس وقت پیدا ہوئے جب سید جعفر شاہ نے پیپلزپارٹی کو خیرباد کہنے کے بعد براہ راست عمران خان سے ملاقات کر کے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ان کا یہ اقدام پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو ناگوار گزرا ان کا موقف یہ ہے کہ جعفر شاہ کو پہلے صوبائی قیادت سے ملاقات کرنی چاہیے تھی صورتحال اس وقت گھمبیر ہوئی جب جعفر شاہ کی سربراہی میں چند ناراض رہنماﺅں اور کارکنوں نے عمران خان سے ایک ملاقات کی۔ جعفر شاہ کے پینل میں آمنہ انصاری شامل ہے اور یہ پینل نئی کابینہ کی تشکیل کا مطالبہ کر رہا ہے ، ادھر حشمت اللہ اور فتح اللہ کے مابین بھی کھینچا تانی جاری ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف لابنگ کر رہے ہیں حال ہی میں ایک اور افواہ یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ فتح اللہ صوبائی صدر جبکہ جعفر شاہ چیف الیکشن کمشنر ہوں گے جبکہ تقی اخونزادہ جنرل سیکرٹری ہوں گے، دوسری جانب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی عہدوں کی تقسیم میں پی ٹی آئی کا سٹریکچر باقی پارٹیوں سے الگ ہے ، حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے اور عمران خان ہی اپنی طرف سے مکمل چھان بین کریں گے ، ان کے ذہن میں جو فٹ آئے گا وہی اٹل فیصلہ ہو گا وزیراعلیٰ پنجاب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
736









