گلگت وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ آج کل ایک عجیب دستورہے جو کام نہیں کرتا ہے اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتاہے لیکن جو کام کرتاہے بدقسمتی سے اس کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرورہوتا ہے پندرہ سالوں سے گلگت بلتستان کی اسمبلی بلڈنگ نہیں بنی کسی نے نہیں پوچھا ہے لیکن اب بن گئی ہے تو مجھے شک ہے کہ کل کوئی نہ کوئی پوچھے گا یہ کس طرح بن گئی ہے اس کیلئے پیسے کہاں سے آئے یہ ایک المیہ ہے اس سوچ کو ختم کرنا ہوگا انہوںنے ہفتہ کے روز جوٹیال گلگت میں تعمیر کی گئی اسمبلی بلڈنگ کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گورننس آرڈر 2009گلگت بلتستان کے لئے دیا جس کے تحت گورنر اوروزیراعلیٰ کے عہدے آگئے تقریباً وہ سارے اختیارات جو ریاستی امور چلانے کیلئے ضروری ہیں ہمیں ملے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان اختیارات کا بہتر استعمال نہیں کیا اس میں ہمارا قصور ہے۔پانچ سال کے عرصے میں وزیراعلیٰ کا دفتر نہ بن سکا اسمبلی کی بلڈنگ تعمیر نہ ہوسکی ہم نے تمام وسائل بروئے کار لا کر تمام رکاوٹیں دور کر کے ایک سال 2ماہ کے عرصے میںگلگت بلتستان اسمبلی کی بلڈنگ کی تعمیر کا کام مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن میں وہ جمہوری رویے اس طرح نہیں آئے جس طرح سے آنے چاہیے تھے انگریزوں کے دورسے یہاں ایک سوچ چلی آرہی ہے کہ فلاں صاحب بڑے گھر میں رہتے ہیں اس لئے ا نکی بات کو زیادہ سنی جائے گی اورجو چھوٹے گھر میں رہتاہے اس کی بات سنی ہی نہیں جاتی ہے انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے تاریخی دن وہ تھا جب گلگت بلتستان کو اسمبلی کا درجہ ملا تھا مگر اصل تاریخی دن آج ہے جب گلگت بلتستان کی پہلی اسمبلی بلڈنگ کا افتتاح ہورہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہمارے تمام سول ملٹری سیاسی ادارے سب ایک ٹیم کی شکل میں کام کرتے رہے جس کی وجہ سے آج علاقے میں مثالی امن ہے گزشتہ ساڑھے تین سا ل کے عرصے میں گلگت بلتستان میں دہشت گردی کا کوئی ایک واقعہ بھی رونما نہیں ہوا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے گلگت بلتستان میں بڑی مشکل سے دس پندرہ ہزار سیاح سالانہ آتے تھے اب پندرہ بیس لاکھ سیاح آتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچا ہے ۔تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے پہلے گورنر سابق وفاقی وزیر امورکشمیر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947سے اب تک آئینی حقوق کیلئے جو جدوجہد کی ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے میں ہر جگہ کہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے دیگر صوبوں سے زیادہ پاکستان کے وفادار ہیں انہوںنے کہا کہ ہر آنے والے دورمیں آئینی حقوق کے حوالے سے بہتری آرہی ہے پاکستان کے گرد نواح میں جو علاقائی سیاست ہے اس کے بہت سارے اثرات ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر آئینی حقوق کے حوالے سے اتنی تیزی سے کام نہیں ہوسکا اس کے باوجود ہم نے اپنے دور حکومت میں آئینی حقوق کے حوالے سے کچھ کوشش کی سابق حکومت نے گلگت بلتستان آرڈر2018کی صورت میں کچھ کوشش کی یہ ایک تسلسل ہے لیکن اس کو بہت آگے لے جانے کی ضرورت ہے آئینی حقوق کا سفر ابھی تھوڑی سی دوری پر ہے زیادہ دور نہیں ہے یہ سفر بھی بہت جلد طے ہوگا۔انہوںنے کہا کہ جب میں پہلی دفعہ گلگت آیا تھا تو چیف سیکرٹری ہائوس کے ایک کمرے میں ٹھہرا تھا شہرمیں لاشیں گری تھیں اور کرفیو تھا اورچیف سیکرٹری ہائوس سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا اب گلگت بلتستان میں پاکستان کی طرح امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں مذہبی تلخی ہوگی ،فرقہ واریت ہوگی تو اس خطے میں ترقی نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کو داخلی خود مختاری حاصل کرنے کیلئے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہوگا اس کے بغیر داخلی خود مختاری حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کو سی پیک سے وسائل بھی ملنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو دیامربھاشا ڈیم اوربونجی ڈیم رائلٹی درست طریقے سے مل جائے تو وسائل کیلئے مزید کچھ بھی ضرورت نہیں ہوگی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر فدا محمد ناشادنے کہاکہ گلگت بلتستان اسمبلی کی بلڈنگ انتہائی شاندار ہے اور ایسی شاندار عمارت گلگت بلتستان میں کہیں اور موجود نہیں ہے یہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کی مشترکہ جائیداد ہے،اوراس بلڈنگ کی تعمیر میں اسمبلی کے ہر سپیکرنے کردار اداکیا ہے ،انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان سے زیاد ہ محب وطن عوام کہیں اور ہوہی نہیں سکتے ہمارے آباد و اجداد نے بے سرو سامانی میں بغیر کسی اسلحے کے اس خطے کو آزاد کرایا وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1994میں جب میں پہلی دفعہ ممبر بنا تو چنار باغ میں ایک ٹائون ہال میں حلف برداری کی تقریب ہوئی بیس سال بعد میں جب دوبارہ ممبر بنا تو پر اسی ٹائون میں حلف برداری کی تقریب ہوئی تو میں سوچنے لگا کہ کیا ہم بیس سال کے عرصے میں اسمبلی کی ایک بلڈنگ بھی نہیں بنوا سکے ہم نے اسی وقت عہد کیا کہ زیر تعمیر اسمبلی بلڈنگ کو دو سال کے عرصے میں مکمل کرنا ہے مگر ہم نے ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں اس شاندار عمارت کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔انہوںنے کہا کہ اسمبلی کی یہ بلڈنگ کسی بھی صوبائی اسمبلی کی بلڈنگ سے بہتر ہے کم تر نہیں ہے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے تقریب میں شرکت کرنے پرتمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔
705









