گلگت(پ۔ر)پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ حفیظ الرحمٰن بیوروکریسی کے سامنے بھیگی بلی بنے بیٹھے ہیں۔کٹھ پتلی وزراء اسمبلی میں کاپیاں پھاڑنے کے بجائے اپنا گریبان پھاڑیں۔بے اختیاری کا رونا رونے والے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں۔جذباتی تقاریر کرنے والے ایک اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے بے بس ہیں۔صوبائی حکومت نے کونسی دودھ اور شہد کی نہریں بہائی ہیں جو انکی کارکردگی چھاپی جائے البتہ حفیظ الرحمٰن پر مستقبل میں ایک کتاب لکھی جائے گی جس کا نام ہوگا گلگت بلتستان اسمبلی سے مناور جیل تک۔عنقریب صوبائی حکومت کو چوروں کو مور پڑ جائیں گے۔ کچھ ایسے نااہل افراد اہم حکومتی عہدوں پر براجمان ہیں کہ اسمبلی کے معیار پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے اور یہ صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ نااہل لیگ نے گلگت بلتستان کے عوام سے آئینی, جمہوری, سیاسی, معاشی, حتیٰ کہ بنیادی انسانی حقوق تک سلب کئے ہیں۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے حق ملکیت اور حق حاکمیت کا جو ایجنڈا دیا تھا اب یہ ایجنڈا گلگت بلتستان کے عوام کی آئینی,جمہوری, انتظامی, سیاسی اور سماجی بقا کا ایجنڈا بن چکا ہے۔ ہم نے بہت پہلے حفیظ الرحمٰن کے مذموم ارادوں کو بھانپ لیا تھا اسلئے ان دونوں اہم ترین معاملات کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا تھا تاکہ اس حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام میں شعور و آگہی پیدا کی جاسکے اور اب گلگت بلتستان کے باشعور عوام تحریک حق ملکیت اور حق حاکمیت کے ذریعے نواز لیگ کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھونکیں گے۔
740









