698

ریفارمز 2018ایف سی آر کے کالے قانون سے بھی بدتر ہے،انصاف گلگت بلتستان

گلگت(چیف رپورٹر)ریفارمز 2018ایف سی آر کے کالے قانون سے بھی بدتر ہے اس نئی ایف سی آر میں کئیر ٹیکر حکومت کا بھی زکر نہیں ہے تمام اختیارات وزیر اعظم کو دیئے گئے ہیں جبکہ ہمیں ایک دفعہ پھر آئین سے باہر رکھا گیا۔یہ بات پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صدر راجہ جلال نے میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے عوام کیساتھ وعدے کرکے وفا کرنا بھول گئی بہت جلد عوام ان کا سخت احتساب کرنے والے ہیں اور ان کوچھپنیکے لئے بھی جگہ نہیں ملے گی ریفارمز کے نام پر جو کچھ اس وقت حفیظ الرحمن گلگت بلتستان کے ساتھ کررہے ہیں ہے وہ انتہائی سنگین ہے اور اس کے نتائج عنقریب رونما ہونگے جس سے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ چیخ اٹھے گا۔انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو اس کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے اور ہمیں آئینی تحفظ فراہم کیا جائے ہمیں اب مزید پیکیجز کے نام پر دھوکہ نہ دیا جائے۔مسلم لیگ ن کے لائے گئے ایف سی آر میں بنیادی انسانی حقوق سمیت انتظامی اور آئینی اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کردیئے گئے ہیں اور ایسے قوانین لاگو کردیئے گئے ہیں جو انسانی حقوق کے بدترین شکل میں بھی موجود نہیں کسی بھی شخص کو بغیر کسی وجہ کے 6ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے اور کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا ہے جبکہ حکومت کو جہاں بھی زمین درکار ہوگی وہاں پر وہ اٹھائے گی کوئی بھی آواز بلند نہیں کر سکے گا یہ کیسا قانون ہے ہمارے زمینوں پر حکومت قبضہ کرے گی اور ہمیں آواز اٹھانے کے بھی اجازت نہیں ہوگی یہ ظلم کی انتہا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ایسے کالے ایف سی آر کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور پی ٹی ائی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ دیکھنا چاہتی ہے اور ہمارے 2015کے منشور میں اس کو شامل بھی کیا گیا تھا بہت جلد پی ٹی ائی منشور کمیٹی کا اجلاس ہونے والا ہے جس میں ہم دوبارہ عبوری صوبے کا شق شامل کروائینگے اور اس پر عمل درامد بھی کروائینگے۔پاکستان تحریک انصاف اس کالے ایف سی آر کے قانون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں