711

سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کروںگا،ڈاکٹر عارف علوی

گلگت صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سپیکر،ڈپٹی سپیکروزراء اورممبران اسمبلی کویقین دہانی کرادی ہے کہ و ہ اسلام آباد پہنچتے ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے سے ایکشن لیں گے وزیر خارجہ سے بھی بات کروںگا سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات بھی دیکھوں گااوروزیراعظم عمران خان سے بھی بات کروںگا اورسرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کروںگا۔ذرائع کے مطابق انہوںنے بدھ کے روز گلگت میں ان سے ملاقات کرنے والے سپیکر فدا محمدناشاد ،ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان ،وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال اوراراکین اسمبلی سے علاقے کے مسائل معلوم کرنے کے بعد کہا کہ میں نے پوری دنیا دیکھی ہے مگر گلگت بلتستان جیسا خوبصورت علاقہ کہیں پر بھی نہیں ہے انہوںنے کہا کہ یہاں کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں کے لوگ ملک میں شامل ہونے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ہمیں یہاں کے لوگوں کی قدرکرنی چاہیے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچتے ہی گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسئلے پر فوراً ایکشن لونگا وزیر خارجہ کو بھی طلب کروںگا اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات بھی منگوائوں گا جس کے بعد وزیراعظم سے ملاقات کر کے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسئلے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کروںگا اس سے قبل سپیکرفدا محمد ناشا د کی قیادت میں صوبائی حکومت کے ایک وفد جس میں ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان،وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمداقبال و دیگر وزراء اورممبران اسمبلی شامل تھے نے گلگت کے ایک ہوٹل میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران سپیکرفدا محمد ناشاد نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں یہاں کا بجٹ کم کرنے کی بجائے اضافہ کیا جائے اور فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبوں کو برقراررکھا جائے اور خواتین یونیورسٹی کو بھی اس میں شامل رکھا جائے۔سپیکر فدا محمد ناشاد کی ہدایت پر وزیرتعمیرات ڈاکٹرمحمد اقبال نے صوبائی حکومت کی جانب سے صدرمملکت کو خوش آمدید کہا اورکہا کہ آپ ایک بہترین سیاسی ورکر ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کا درد ایک سیاسی ورکر ہی سمجھ سکتا ہے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اقبال نے صدر مملکت سے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد نے ستر سال قبل پاکستان کا حصہ بننے کی امید میں اس خطے کو جنگ لڑنے کے بعد آزاد کرایا تھا لیکن ستر سال گزرنے کے باوجود بھی ان بزرگوں کا یہ خواب ادھورا ہے ۔نئی نسل اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں اوران کے اندر احساس محرومی میں بھی اضافہ ہورہاہے ہمارا دشمن اس احساس محرومی کو اجاگر کر کے فائدہ اٹھا کے سی پیک کو خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے گزشتہ سال 15اگست کو بھارتی وزیر اعظم کا گلگت بلتستان کا ذکر اورچند مہینے قبل امریکی وزیرخارجہ کا یہ بیان کہ سی پیک ایک متنازعہ خطے سے گزررہا ہے ان سازشوں کی کڑیاں ہیں اورہمارے حکمرانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ان کو ایسا بیان دینے کا موقع ملا انہوںنے کہا کہ ہم گزشتہ ستر سالوں سے ہر آنے والی حکومت سے یہ امید لگائے بیٹھتے ہیں کہ شاید اس مرتبہ یہ مسئلہ حل ہو مگر گلگت بلتستان کا دورہ کرنے والے ہر صدر اوروزیر اعظم آئینی حقوق کے حوالے سے ہمیں تسلیاں دیتے ہیں۔آئینی حقوق کیلئے کمیٹیاں بناتے ہیں مگر کبھی مسئلہ کشمیر کے نام پر تو کبھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نام پر تو کبھی کشمیر قیاد ت کے نام آج ہم وہیں پر کھڑے ہیں جہاں پر 1947میں تھے ۔ذرائع کے مطابق وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمداقبال نے کہا کہ صدر صاحب میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بلوچستان کی طرح حالات خراب ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہے اگر یہاں کے عوام پرامن ہیں اور ریاست کے وفادار ہیں تو آئینی حقوق کے مسئلے کو حالات خراب ہونے سے قبل حل ہونا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں لیکن میں اس ملک کی قومی اسمبلی اور سینٹ کا ممبر نہیں بن سکتا وفاقی وزیر نہیں بن سکتا اس کے برعکس بلوچستان فاٹا یا کراچی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص نہ صرف قومی اسمبلی اورسینٹ کا ممبر بن سکتا ہے بلکہ وزیراعظم اور صدر بھی بن سکتا ہے اوریہی ہمارے لئے احسا س محرومی کا باعث ہے اس لئے صدر صاحب اس احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے آپ کردارادا کریں ڈاکٹر اقبا ل نے کہاکہ میں نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کا مطالعہ کیاہے ان سفارشات میں مسئلہ کشمیر حل ہونے تک گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے پارلیمنٹ ،سینٹ اورتمام مالیاتی اداروں میں نمائندگی دینے کی سفارش کی گئی ہے مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان سفارشات پر عمل نہیں ہوسکا آپ بحیثیت صدرپاکستان اپنااثر رسوخ استعمال کر کے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدر آمد کرائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں