719

صوبائی حکومت متحدہ اپوزیشن کو دوحصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب

صوبائی حکومت متحدہ اپوزیشن کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی،اسلامی تحریک اورایم ڈبلیو ایم کے اراکین کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اپوزیشن کا ایک گروپ بجٹ کو غیر قانونی بجٹ قراردیکر نعرہ بازی کرتا رہاجبکہ دوسرا گروپ خاموشی سے تماشا دیکھتا رہا اتوار کے روز جب بجٹ اجلاس شروع ہوا تو متحدہ اپوزیشن کے تمام دس اراکین موجود تھے جب ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان جو اجلاس کی صدارت کررہے تھے نے صوبائی وزیر خزانہ حاجی اکبر تابان کوبجٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تو قائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) شفیع خان نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کی اجازت مانگی مگر سپیکرنے یہ کہہ کر شفیع خان کوبولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا کہ بجٹ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ہے جس پر کیپٹن(ر) شفیع خان نے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ پری بجٹ اجلاس کے بغیر بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے جب حاجی اکبرتابان نے بجٹ تقریر شروع کی تو متحدہ اپوزیشن کے دس میں پانچ اراکین پی پی کے جاوید حسین اسلامی تحریک کے کیپٹن(ر) شفیع خان،بالاورستان نیشنل فرنٹ کے نواز خان ناجی تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب خان اورکاچو امتیاز حیدر نے احتجاج شروع کیا اور نہ صرف غیر قانونی بجٹ نامنظور یکطرفہ بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے بلکہ آگے بڑھ کر حاجی اکبرتابان کے سامنے پہنچ گئے اوربجٹ کی کاپیاں پھاڑ پھاڑ کر اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے حاجی اکبرتابان کی جانب اچھالتے رہے اور یہ سلسلہ صوبائی وزیر خزانہ کی تقریر ختم ہونے تک جاری رہا جبکہ ایم ڈبلیو ایم کی خاتون رکن اسمبلی اپنی نشست پر کھڑے ہو کے بجٹ کی کاپی لہراتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا اس کے برعکس اسلامی تحریک کے کیپٹن(ر) سکندر علی اورریحانہ عبادی پی پی کے عمرا ندیم اور ایم ڈبلیو ایم کے حاجی رضوان علی نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا اور خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھے رہے اس طرح پی پی کے ایک رکن جاوید حسین احتجاج میں شامل رہا جبکہ ایک رکن عمران ندیم تماشا دیکھتے رہے ایم ڈبلیو ایم کی خاتون رکن بی بی سلیمہ احتجاج میں شامل رہیں جبکہ دوسرا رکن حاجی رضوان تماشا دیکھتا رہا اسلامی تحریک کے ایک رکن قائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) شفیع خان احتجاج میں شامل رہا جبکہ اسلامی تحریک کے ہی دوا راکین کیپٹن(ر)سکندر علی اورریحانہ عبادی تماشا دیکھتے رہے ایک موقع پر پی پی کے عمران ندیم اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کے پاس گئے اور ان سے کچھ دیر گفتگو کی جس کے بعد وہ واپس تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب کے پاس پہنچ گئے اورانہیں بجٹ کی کاپیاں پھاڑنے سے روکنے کی کوشش کی مگر راجہ جہانزیب بعض نہ آئے ایوان میں شور شرابہ زیادہ ہواتو اسلامی تحریک اورایم ڈبلیو ایم کی دونوں خاتون اراکین ریحانہ عبادی اور بی بی سلیمہ خاموشی سے ایوان سے نکل گئیں متحدہ اپوزیشن ممبران کا دو حصوں میں تقسیم ہونے سے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اورڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا کہ اپوزیشن کے سینئر اورسنجیدہ ممبران حکومت کے ساتھ ہیں چار یا پانچ غیر سنجیدہ ممبران حکومت کی مخالفت کررہے ہیں صوبائی حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے نہ صرف متحدہ اپوزیشن تقسیم ہوگئی ہے بلکہ ایوان میں موجود پی پی اسلامی تحریک اورمجلس وحدت المسلمین کے ممبران بھی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں