قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں گلگت کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے اپنی کارکردگی رپورٹ پر مبنی پمفلٹ شائع کرنے پر ہنگامہ برپا ہو گیا، وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے پمفلٹ کو ایوان میں پھاڑ کر پھینک دیا اور اسسٹنٹ کمشنر دنیور کے رویئیکے خلاف ایوان سے واک اوٹ کردیا، بدھ کے روز ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان کی سربراہی میں قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس کارروائی کے دوران حکومتی وزیر ڈاکٹر اقبال اٹھ کھڑے ہوئے اور انتظامیہ کی غفلت پر انتہائی بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے انتہائی دکھ و افسوس ہوا کہ انتظامیہ کے جانب سے ایک بلیٹن شائع کیا ہے اس کے سرورق پر گلگت بلتستان کی ثقافت ٹوپی شاٹی کی تشہیر کی گئی ہے انہوں نے پمفلٹ کو ایوان میں لہراتے ہوئے کہا کہ جب میں اس پمفلٹ کو کھول کر دیکھتا ہوں تو اس میں انتظامیہ نے صرف اپنی کارکردگی دکھائی ہے ممبران اسمبلی اور حکومت کا کوئی ذکر نہیں یہ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے اس کے شروع میں ہی ڈپٹی کمشنر کی تصویر دکھائی گئی ہے یہ ڈپٹی کمشنر کون ہوتا ہے اس پمفلٹ میں کسی وزیر ، مشیر اور اسمبلی ممبر کا کہیں کوئی ذکر نہیں کام ہم کرتے ہیں یہ لوگ ہمارے ملازم ہیں، پچھلے سال جب ہم نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر اس طرح کی رپورٹ شائع کرنے کا مشورہ دیا تو انتظامیہ کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں پیسے کہاں سے آئیں گے؟ پھر وزیر اعلیٰ نے بھی کہا کہ واقعی میں فنڈز نہیں ہیں تو ہم نے اپنا مشورہ واپس لیا ،ہم نے نہیں چھاپا اب ان لوگوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنی تشہیر کی ہے یہ پمفلٹ کاغذ انتہائی مہنگا ہے اس کے لیے ڈی سی نے اپنی جیب سے تو ادا نہیں کیا لوکل گورنمنٹ کا پیسہ لگا یا گیاپمفلٹ چھپانے کیلئے عوام کے چھوٹے چھوٹے منصوبوں کیلئے لگائے گئے ہیں انہوں نے کہاہے کہ 6ماہ سے دنیور میں پانی کیلئے ایک پروگرام رکھا گیا تھا کیونکہ عوام کا مطالبہ تھا کہ یہاں پانی کا بڑا مسئلہ ہے جس پر ہم نے علاقے کے نمبرداروں کوبلا کر ایک تقریب رکھی تاکہ پانی کے مسئلے کو حل کیا جا سکے، اسی دوران ایک عجیب و غریب آدمی پینٹ شرٹ میں ملبوس کالا چشمہ لگا کر وائسرائے کی طرح تقریب میں نمودار ہو ااور سیدھا جا کر پہلی صف میں بیٹھ گیا ہم نے استفسار کیا تو بتایا گیا کہ یہ دنیور کا اے سی ہے دو منٹ بعد ہی وہ آدمی اجلاس سے نکل گیا، ہم نے کہاکہ بھائی کہاں جا رہے ہو یہاں اہم مسئلے پر پروگرام رکھا گیا ہے تو اے سی نے جواب دیا کہ میٹنگ میں جانا ہے ہم نے منع کیا تو جواب دیا کہ میں تم لوگوں کوجواب دہ نہیں ہوں جس کو جواب دہ ہوں وہاں جا کر جواب دوں گا،بعد میں ہم نے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری سے شکایت کی پھر بھی وہ اے سی ابھی تک براجمان ہے دنیور کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ اے سی سارا دن اپنے دفتر کو اندر سے بند کرکے موبائل پر لگا رہتا ہے چھ ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ اس آدمی کو تبدیل کیا جائے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ہے ،ڈاکٹر اقبال نے انتظامیہ کے پمفلٹ کو ایوان میں پھاڑتے ہوئے کہا کہ میں اس کو پھاڑ کے پھینک دیتا ہوں جس کے ساتھ ڈاکٹر اقبال نے ایوان سے واک آوٹ کیا ، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ اس معاملے کو کابینہ میں اٹھائیں لیکن واک آوٹ نہ کریں ڈاکٹر اقبال یہ کہتے ہوئے ایوان سے نکل آئے کہ میں کابینہ سمیت اپنے تمام فورم پر لعنت بھیجتا ہوں جہاں منتخب نمائندوں کی نہیں سنی جاتی بعد میں صوبائی وزیر حیدر خان اور عمران وکیل ڈاکٹر اقبال کو منا کر واپس لے آئے وزیر اطلاعات اقبال حسن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اقبال کی ذات کا مسئلہ نہیں یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے کابینہ سے بڑا فورم یہ اسمبلی ہے کیونکہ لاکھوں عوام کا نمائندہ ہے یہ معاملہ دیامر میں بھی ہے جہاں ہمارے وزیر وں کی نہیں سنی جاتی وہا ں وزراء کو دیوار سے لگا یا جاتاہے ہمیں اس طرح کی چیزیں منظور نہیں، قصور ہمارا اپنا ہے کہ ہم سرکاری گاڑی پر سرکاری جھنڈا لہرا کر اے سی اور ڈی سی کے دفتر میں حاضری لگا تے ہیں ، رکن اسمبلی حاجی رضوان نے کہاکہ یہ معاملہ انتہائی افسوس ناک ہے ایک حکومتی وزیر اس قدر بے بس ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں سسٹم انتظامیہ چلاتی ہے اگر کوئی انتظامی آفیسر حکومتی آرڈرزکی خلاف ورزی کرتا ہے تو ڈاکٹر اقبال کو چاہیے تھا کہ متعلقہ وزیر کو موقعے پر ہی بٹھا کر اس آفیسر کے خلاف کارروائی کرتے یہاں حکومت کی رٹ سرے سے موجود نہیں جب حکومتی وزیر اس قدر بے بس ہیں تو اپوزیشن کا کیا حال ہوگا ، وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہاکہ میں سپیکر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اگر کوئی اس ایوان میں کوئی بات کرتا ہے تو فوری نوٹس لینا چاہیے انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے مخاطب ہو کر کہاکہ اگر آپ حکم دیں تو معاملے کا ابھی نوٹس لیتا ہوں اپنے چیمبر میں طلب کریں اور ان سے جواب طلب کریں ، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اقبال کا معاملہ پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے عوام کا اجتماعی رویہ تبدیل نہیں ہوا کام حکومت کرتی اور کریڈٹ کسی اور کو دیتے ہیں انتظامیہ کے پمفلٹ میں حکومت کہاں ہے ؟ اس میں گلگت کے تینوں اضلاع کے ممبران کا زکر ہونا چاہیے تھا بد قسمتی سے ہم طاقت کا سر چشمہ کسی اور کو سمجھتے ہیں یہ تفریق ختم کرنے کی ضرورت ہے،ڈپٹی سپیکر سے معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے سپر د کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس بات کی تحقیق کرکے ایک ڈپٹی کمشنر اس طرح کی غفلت کر سکتا ہے کہ نہیں ، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ یہ پورے ملک کی بد قسمتی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو کوئی تسلیم نہیں کیا جاتا ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ پمفلٹ کو چھاپنے سے پہلے ممبر اسمبلی کو اعتماد میںلیاجاتا ، حکومت اور اسمبلی کی کارکردگی کی بھی تشہیر ہونی چاہیے۔
707









