گلگت( رپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر و سابق رکن کونسل امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سرکاری خزانے کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں انہوں نے چند مخصوص ٹھیکیداروں کے ساتھ پارٹنر شپ کررکھی ہے وزیراعلیٰ کے پارٹنر ٹھیکیداروں کودوگنے زائد نرخ پر ٹھیکے دئیے ہیں وزیراعلیٰ کی کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہونے کے باوجود نیب سمیت تمام اداروںنے وزیر اعلیٰ کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نےمیڈیا کو بتایا کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں منٹیننس کی مد میں 85کروڑ روپے رکھے گئے تھے جبکہ منٹیننس کے نام پر دو ارب نوے کروڑ روپے خرچ ظاہرکیاگیا ان میں اضافی دو ارب پانچ کروڑ روپے وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے ذاتی طورپر ہڑپ کرلیا مگر نیب سمیت کسی بھی ادارے نے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ اضافی رقم کس قانون کے تحت اور کیوں خرچ کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ حفیظ الرحمن کے پارٹنر ٹھیکیداروں کو دئیے گئے ٹھیکوں کے ٹینڈر ریٹ اور عام ٹھیکےداروں کو دیئے گئے ٹھیکوں کے ٹینڈر ریٹ کا جائزہ لیا جائے تو کرپشن کی ہوشربا کہانیاں سامنے آتی ہیں اورانسان دنگ رہ جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کس دیدہ دلیری کے ساتھ سرکاری خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ دو سال قبل وزیراعلیٰ کے ایک پارٹنر ٹھیکیدار کومارکیٹ ریٹ سے دس گنا زائد ریٹ پر ایکسیویٹراوردیگر مشینری کا ٹھیکہ دیاگیا اورایڈوانس ادائیگی بھی کی گئی اس ٹھیکیدار نے دوسال قبل ایک ایکسیویٹر ساڑھے پانچ کروڑ روپے میں دیا اور یہی ایکسیویٹر گزشتہ دنوں ایک دوسرے ٹھیکیدار نے محکمہ تعمیرات عامہ کو پونے دو کروڑ روپے میں دیا یعنی دوسال قبل ایک ایکسیویٹر ساڑھے پانچ کروڑ میں خریدا جاتا ہے اوردو سال بعد یہی ایکسیویٹر پونے دو کروڑ میں خریدا جاتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ایک مخصوص ٹھیکیدار کو تین سال قبل پونے تین کروڑ روپے کی اضافی رقم اداکی گئی ۔کرپشن کی یہ کہانی نیب سمیت تمام سرکاری اداروں کے علم میں ہے مگر کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی ایک مخصوص ٹھیکیدار کو اتنی بڑی خطیر رقم اضافی کیوں دی گئی انہوںنے بتایا کہ اسطرح گزشتہ دنوں ایک ہی روز ایک ہی طرح کے واٹر سپلائی کے دوالگ الگ منصوبوں کا ٹینڈر ہوا ایک منصوبے کے تحت شروٹ بارگو اور جاگیربسین میں آٹھ انچ کے ڈایا جی آئی پائپ بچھانے کا منصوبہ تھا ایک عام ٹھیکیدار نے 1400روپے پر فٹ کا ریٹ ٹینڈر دیا ٹھیکہ حاصل کیا جبکہ دوسرے منصوبے میں برمس سے کشروٹ تک یہی آٹھ انچ کی پائپ بچھانے کا منصوبہ تھا اس کاٹھیکہ 2100روپے فی فٹ میں دیاگیا یعنی ایک ہی قسم کے پائپ کا نرخ گلگت شہر کے دو الگ الگ علاقوں میں مختلف ہوتے ہیں بسین میں اس پائپ کا نرخ 1400روپے پر فٹ ہوتا ہے اوربرمس میں اسی پائپ کا نرخ اچانک اسی روز اضافہ ہو کے 2100روپے پرفٹ ہوتاہے چونکہ بسین کے منصوبے میں وزیراعلیٰ کا کوئی رشتہ دار ٹھیکیدار ٹینڈر میں شامل نہیں تھا جبکہ برمس کشروٹ کے منصوبے میں وزیراعلیٰ ایک رشتہ دار ٹھیکیدار ٹینڈر میں شامل تھا اس ٹھیکیدار کو نوازنے کےلئے نرخ میں یکدم کئی گنا اضافہ کیاگیا اور دس ہزار فٹ پائپ کے اس ایک منصوبے میں وزیراعلیٰ کے رشتہ دار ٹھیکیدار کو ستر لاکھ کا فائدہ پہنچایاگیا اور سرکاری خزانے کو ستر لاکھ کا نقصان پہنچایاگیا انہوںنے کہا کہ یہ صور تحال صرف ایک منصوبے میں نہیں بلکہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں ہے انہوںنے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کے دور اقتدار میں دئیے گئے تمام ٹھیکیوں کے پری کوالیفکیشن کی تحقیقات کی جائے تو کروڑوںکی نہیں بلکہ اربوں روپے کے کرپشن کے شواہد اورثبوت سامنے آئیں گے انہوںنے بتایا کہ گزشتہ تین سال کے عرصے میں گلگت بلتستان کے پیشہ ور اورایماندار ٹھیکیدار دیوالیہ ہو چکے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ کے چند من پسند اور مخصوص ٹھیکیدارراتوں رات فٹ پاتھ سے ارب پتی بن چکے ہیں انہوںنے کہا کہ اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام ثبوت اورشواہد کے باوجود نیب سمیت تمام سرکاری اداروںنے وزیر اعلیٰ کو سرکاری خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔
681









