سوست ( رپورٹر)متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر پاک چین سرحدی تجارت سے منسلک لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک پھیلائیں گے پاکستان کسٹم اور ایف بی آرسی پیک منصوبے کو ناکام بنانے اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو بد نام کرنے کی سازش کررہے ہیں پاک چین تجارت سے وابستہ لوگوں کے مطالبات کی حمایت پورے گلگت بلتستان کے عوام کررہے ہیں سوست کے مقام پر تاجروں ،مزدوروں اور ٹرانسپورٹروں کی جانب سے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے شاہراہ قراقرم پر جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شفیع خان نے کہاکہ سیاسی اصلاحات کے نام پر گلگت بلتستان میں نافذ گلگت بلتستان آرڈر یہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک مذاق ہے اس آرڈر کے مطابق گلگت بلتستان کا عدلیہ اتنا مضبوط ہوا کہ وی بوک کے حوالے سے چیف کورٹ کی طرف سے دیاگیا حکم امتناعی کو کسٹم حکام نے ماننے سے انکارکردیا ہے اور چیف کلکٹر اعلیٰ عدلیہ کی بات ماننے سے صاف انکاری ہے ۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان وہ حساس علاقہ ہے جہاں سے سی پیک جیسا منصوبہ گزررہا ہے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے یہاں کے لوگوں کے تحفظات کو دورکرنا ہوگا گلگت بلتستان کے تاجروں نے سی پیک روٹ کو بند کردیا ہے حالانکہ یہ حالت نیک شگون نہیں البتہ اس مقام تک لایاگیا ہے انہوںنے کسٹم حکام اپنا قبلہ درست کریں یہا ںکی عدالتوں اوررسم ورواج کا احترام کریں ورنہ کسٹم حکام کو یہاں سے نکلنا ہوگا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے کہاکہ 70سالوں سے گلگت بلتستان کے مستقبل کا جو نقشہ دیکھارہے تھے ان رہنمائوں کو ہم نے غدار کہہ کرعزت کیا ہے جو بھائی اپنے بھائی کوقتل کر کے غیروں کو چوغا پہنادیں ایسے حالات میں وفاق کی غلامی میں ہم کیوں نہ جائیں ۔ہم کہتے ہیں کہ ڈوگروں کو ہم نے بھگایا۔ڈوگروں نے جانا ہی تھا البتہ ڈوگروں نے جاتے جاتے ہمیں ہماری زمین نہیں دیناتھا اس لئے انہوںنے گلگت بلتستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا تاکہ واپس آنے تک ہم ان جھگڑوں میں لگارہیں۔انہوںنے کہا کہ 70سالہ قربانیاں وفاق کے غلام رہنے کے لئے نہیں بلکہ ایک نظریے کے لئے دیا ہے ہم نے مطالبہ کیا کہ حقوق دیں وفاق نے ہمیں ادارے دیئے اوریہ ادارے سی پیک جیسے منصوبے کو بھی نہیں بچا سکتے ہیں ہمارے ادارے گلگت بلتستان ہی نہیں پورے پاکستان بچا سکتے ہیں جیسے کرگل ،وانا،وزستان اوردوسرے محاذوں پر این ایل آئی نے کیا اگر سی پیک کی حفاظت چاہیے تو یہ کام گلگت بلتستان کے لوگوں کو دیں 70سالوں میں ہمارے اوپر بھروسہ نہیں کیاگیا جو کام آپ سے نہیں ہوسکا وہ کام ہم کر کے دکھائیں گے انہوںنے اعلان کیا تاجروں کا احتجاج جاری رہے گاان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں اور ضرورت پڑی تو پھر آئیں گے ہماری روایات کے مطابق ہم گھر میں نہیں بیٹھ سکتے جب تک ہمارے بھائی سٹرکوں پر ہے یہ علاقہ حساس ہے اس معاملے کو طول نہ دے اگرمسئلے کو حل کرنے میں مزید دیر لگایا تو سرحد کے پار سے آوازیں آنا شروع ہوگااور ہم یہ نہیں چاہتے ہیں اس مسئلے کو فوراً حل کیاجائے مزید 3دنوں میں یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو عوامی ایکشن کمیٹی اپنی تاریخ کو دھرائے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما و ممبرقانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز نے کہاکہ یہ مسئلہ چند تاجروں،مزدوروں اورٹرانسپوٹروں کا نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کا معاملہ ہے اگر گلگت بلتستان کو ٹیکس فری قراردیا ہے تو ایف بی آر اورپاکستان کسٹم کا وجود سوالیہ ہے جو لوگ یہاں کے عدالتوں کا حکم نہیں مانتے ہیں تو یہاں سے چلا جانا ہوگا ہم سی پیک کو خراب ہونا نہیں دیںگے متحدہ اپوزیشن اس تحریک کی بھرپورحمایت کرتی ہے ممبر قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا کہ گلگت بلتستان سی پیک کا گردن ہے آپ گردن کو چھوڑ کرپیٹ کی بات کررہے ہیں اس کا مطلب ہے یہاں لوگ نہیں بلکہ بندر ہیں آپ حالات کے نزاکت کو سمجھے سی پیک اس وقت بند ہے اور کسی کو احساس تک نہیں ہے اس ملک کو کرپشن کا شکار نہ بنادیں اداروں کو اپنا کام کرنے دیں اور احترام کریں ممبر قانون ساز اسمبلی جاوید حسین نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کا حصہ ہے ہمیں کہتے ہیں کہ آپ لوگ متنازعہ علاقے کے ہیں اگر ہم متنازعہ علاقے کے لوگ ہیں تو متنازعہ علاقوں جیسے مراعات اور حقوق دیں اگر حکومت پاکساتن گودار کو ٹیکس فری زون قراردیتی ہے تو گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون قرارکیوں نہیں دیتی سوست سی پیک کا گیٹ وے ہے اوریہ ابھی تک بند ہے کسی آفسر نے اگر آج تک نہیں پوچھا ہے انہوںنے کہا کہ 2007سے گلگت بلتستان سیلز ٹیکس نافذ ہے یہاں کے تاجروں کو خصوصی مراعات نہیں دئیے گئے تو پاک چین تجارت نہیں ہوسکتا ہے ہزاروں لوگوں کا روزگار رکا ہوا ہے کسی کو خبر نہیں کشمیر والے کسٹم لگانے کی کوشش میں کسٹم حکام کوبھگایا ہے اور یہاں یہ لوگ ہمارے حکمران بننا چاہتے ہیں یہ سلسلہ جاری رہا تو کسٹم کو باہرپھینکیں گے اسلام آباد کو اس مسئلے پر سوچنے کی فرصت نہیں ہے اس مسئلے کو طول دیا حالات خراب ہونگے اس کا ذمہ دار گلگت بلتستان حکومت ہوگی۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے نگر چیمبر آف کامرس کے صدر محمد علی قائد نے کہا کہ یہ احتجاجی دھرنا پرامن ہے ضلعی انتظامیہ سمیت گلگت بلتستان انتظامیہ کا تعاونہے مگر کسٹم انتظامیہ کی وجہ سے حالات خرابی کی طرف جارہے ہیں یہ سب کچھ کسٹم کی ہٹ دھرمی ہے گلگت بلتستان امپوٹرز اینڈ ایکسپوٹرز کے صدر اشفاق احمد نے کہا کہ اس احتجاجی تحریک میں گلگت بلتستان کے تمام تاجروں ،تنظیموں سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کی حمایت ہے یہ احتجاج مطالبات کے منظوری تک جاری رہیگا ۔معروف تاجر محبوب ربانی نے کہا کہ یہ صرف تاجروں کا نہیں بلکہ مزدوروں ،ٹرانسپورٹروں کا معاملہ ہے دھرنے میں ہزاروں افرا دنے شرکت کی مظاہرین نے پاکستان کسٹم اورایف بی آر کے خلاف نعرہ بازی کی سوست کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو بند کر کے احتجاجی دھرنا چوتھا روز میں داخل ہوا ہے ۔
714









