گلگت (چیف رپورٹر) آرڈر 20018 کو مسترد کرتے ھیں پیپلز پارٹی نے جو حقوق جی بی کے عوام کو دیے تھے ان کو واپس لیا گیا ہے اور ساتھ ہء لوگوں کی زندگی کو آجیرن بنادیا جارہا ہے جو پابندیاں آرڈر 20018 میں جی بی کے لوگوں کے اوپر لگایی گیں ہیں وہ تو ہندوستان نے بدنام زمانہ کالا قانون پوٹا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھی نہں لگای تھی ن لیگ نے حی بی کے عوام کی پیٹ میں چھورہ گونپا ہے اور اس ورادت میں حافظ الراحمن برابر کے شریک ہیں اگر اس آرڈر کو فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو دمادم مست قلندر ہو گا اور تمام تر ذمداری ن لیگ کی موجودہ وفاقی وہ صوبای قیادت پر عاید ہو گی اور شاید ان کے تابوت پر آخری کیل ہم ہی ٹھونکے گے یہ بات سابق مشیر وزیر اعظم پاکستان وزیر عبادت علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہو کہا انھوں نے کہا کہ مقبوظ کشمیر میں ایسا کالا قانون نافذ نہیں ہے جو نام نہاد گلگت بلتستان دشمن وزیر اعلی قاری ریفارمز پیکیج کے شکل میں گلگت بلتستان میں لاگو کرنا چاہتا ہے اس نام نہاد پیکیج میں بنیادی انسانی حقوق کو مکمل طور پر سلب کیا گیا ہے جبکہ انتظامی اور قانونی تمام اختیارات وزیر اعظم کو دیئے گئے ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کو کچھ نہیں دیا گیا ہے اس نام نہاد کالے ایف سی ار میں مزہبی ازادی بھی سلب کرنے کی مکمل تیاری کرلی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ نقص امن کے باعث حکومت کسی بھی مزہبی اجتماع پر پابندی عائد کرسکتی ہے جبکہ یہاں کے ملکیتی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے یہ شق بھی شامل کرلی گئی ہے کہ حکومت کو جب اور جہاں چاہیں زمین اٹھا سکتی ہے لیکن عوام نہ ہی اس پر اواز اٹھا سکتی ہے اور نہ ہی عدالت میں کیس کرسکتی ہے ہم سے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق چیھنے جا رہے ہیں بلکہ انصاف کے دروازے بھی بند کئے جارہے ہیں مگر گلگت بلتستان کے 62فیص ابادی پر مشتمل نوجوان طبقے میں پہلے سے ہی مایوسی پھیل چکی ہے اب وہ کسی صورت کسی ایسے نظام کو قبول نہیں کرینگے اور اگر اس نظام کو فوری طور پر ختم نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان میں مسائل مزید سنگین ہونگے جس کی تمام تر زمہ داری قاری سرکار پر عائد ہوگی اور وزیر اعلی اس کے زمہ دار ہونگے۔
726









