723

گلگت بلتستان کا 63ارب رو پے سے زائد کا بجٹ جمعرات کے رو ز گلگت بلتستان اسمبلی میں پیش کیا جا ئے گا۔

گلگت (بیو رورپورٹ)گلگت بلتستان کا 63ارب رو پے سے زائد کا بجٹ جمعرات کے رو ز گلگت بلتستان اسمبلی میں پیش کیا جا ئے گا۔بجٹ سے قبل پری بجٹ سمینا ر سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ 2015 میں ہماری حکومت بننے کے بعد گلگت بلتستان کے بجٹ میں دس گنا اضافہ ہوا ہے اور گلگت بلتستان تعمیر و ترقی کے راستے پر چلنے لگا ہے. انہوں نے گلگت میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کو وفاقی حکومت نے ایک ارب روپے لاگت تک کے منصوبے منظور کرنے کا اختیار دیا ہے جبکہ چیف سیکریٹری کو پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر کے اختیارات بھی تفویض کئے گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ بجٹ کو عوام دوست بنانے کے لیے تمام اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ 2015 ء میں ہماری حکومت بننے سے قبل پری بجٹ سیمینارزکا کوئی کنسپٹ نہیں تھا۔ا س مقدس مہینے میں بجٹ تیار کرنے سے سارے مشکلات آسان ہوئے اور پورے اہداف پایہ تکمیل تک پہنچے۔گلگت بلتستان امپاورمنٹ آرڈر 2018 کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کو زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے جس کے لئے ہم سابق وفاقی حکومت، افواج پاکستان سمیت ملکی سلامتی کے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے مساوی اختیارات دیئے گئے ہیں اور اب ہم مفاد عامہ کے بہت سے کام خود کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی میں عوام کی شمولیت چاہتے ہیں تاکہ بجٹ کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جا سکے. حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے اور عوام کی خدمت کرنی ہے. انہوں نے کہا کہ نئے امپاورمنٹ آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو پانچ سال کے لئے ٹیکس فری قرار دیا گیا ہے اور اب پرائیوٹ سیکٹر کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے کے تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا. انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کی بہتری کے لئے کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان اپنے پاوں میں کھڑا ہو۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں شرکاء نے بجٹ کو عوام دوست بنانے کے لیے تجاویز دی۔انہوں نے کہا کہ 5 سال کیلئے صوبے کو ٹیکس فری بنایا گیاہے یہ واحد صو بہ ہے جسے صو با ئی سیٹ اپ کے ساتھ اختیار بھی ملا۔ترقی کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا۔وسائل لینے کیلئے جدوجہد کی ہے۔بہت سارا کام ہم نے مزید کرنا ہے جس سے علاقے میں ترقی کا پہیہ ٹھیک طرح چل سکے۔ ایفاد کو مزید بہتر بنارہے ہیں۔صوبے کا سب سے بڑا چیلنچ اپنے پاوں پر کھڑا ہونا ہے ہم کب تک سبسڈی پر گزارہ کریں وہ پہلا قدم کب اٹھانا ہے اس حوالے سے مشاورت بھی ہونی چاہئے۔ہمارے سیکورٹی ادارے تعاون کر رہے ہیں۔اس موقع پر چیف سیکریٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے کہا ہے کہ سرکار کا پیسہ ایک امانت ہے اور اس امانت میں خیانت نہیں کریں گے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کیا جائے گا۔صوبائی حکومت بہتر کام کررہی ہے اور ایک ویژن کے تحت اگے بڑھ رہی ہے۔.انہو ں نے گلگت بلتستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا جبکہ صوبائی سیکریٹری منصوبہ بندی اور سیکریٹری خزانہ نے آئندہ مالی سال کے لئے گلگت بلتستان کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی۔سیکریٹری خزانہ محمد یحی اخونزادہ نے اس موقع پر ریگولر بجٹ کے حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ kcbl کو شیڈول کرکے مائیکرو فائنانس بینک بنا رہے ہیں۔لوکل الیکشن کرارہے ہیں اسلئے بجٹ مختص کر لیا ہے۔سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے ڈویلپمنٹ بجٹ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کی طرح امسال بھی پورا خرچ ہوگیا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ہم اپنے صوبے کو خوشحال اور خود انحصاری کی طرح لے جانا چاہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ vission 2025کے اور SDG کے اہداف کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے WASHکے منصوبوں کی دور دراز علاقوں تک توسیع،عوامی شراکت داری کے تحت صاف پانی کے منصوبوں کی توسیع،دیگر ضلعوں میں بس سٹینڈ اور سبزی منڈیوں کا قیام کے علاوہ GBRSP کو بھی مذید فعال بنانے کیلئے اقدامات کرلئیے ہیں۔گلگت بلتستان کو ایک پاک و صاف صوبہ بنانا چاہتے ہیں،گلگت بلتستان میں ترقی کے نئے راہیں کھل رہی ہیں اور دیگر صوبوں کے نسبت جی بی کو آگے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔فشریز کو مضبوط بنارہے ہیں۔بجلی اور ہیلتھ کے مسائل جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں۔305 ارب روپے کے منصوبے جاری ہیں جس کے تکمیل سے خطہ ترقی کے منازل طے کریگا۔50 کروڑ کی خطیر رقم سے عطائآباد لیک پر ٹورسٹ پوائنٹ بنارہے ہیں۔25 ارب روپے سیشندور گلگت روڑ پر ایکسپریس وے بن رہا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں