659

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے متعلق درخواستوں پر سماعت ملتوی

گلگت(مہتاب الرحمن) گلگت بلتستا ن کو بنیادی حقوق کی فراہمی سے متعلق1999میں الجہاد ٹرسٹ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد سمیت دیگر درخواستوں پر مشترکہ سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہمی میں تین رکنی بنچ نے کی دروان سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گلگت بلتستان کی عدالتوں کے اختیاراختیار کا تعین آئین پاکستان کے مطابق ہونا چاہئیے،میں نے گلگت بلتستان کے ہر پتھر اور دل میں پاکستان دیکھا ہے گلگت بلتستان کے عوام نے کرگل کی جنگ میں بہت قربانی دی ہے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ان لوگوں کے لئے کچھ کرنا ہوگا جوآپ کے لئے بہت کچھ ہیں گلگت بلتستان کے لوگ لاہور والوں سے زیادہ محب وطن ہیں آپ میرے ساتھ آئیں میں دیکھاتا ہوں کہ وہاں کے لوگوں میں کتنی پاکستانیت ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل آپ پاکستان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس معاملے پرخصوصی ہدایات،اوراہم دستاویزات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتاہوں جبکہ کچھ اہم دستاویزات عدالت کو علحیدگی میں پیش کرنا چاہتاہوں۔جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے 1999کے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کرانا ہے جوکہ آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔اس موقع پراٹارنی جنرل نے وفاق سے ہدایات لینے کے لئے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے متعلق درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی،جس کو چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت 9اکتوبر تک ملتوی کردی جبکہ لارجربنچ تشکیل دینے کی استدعا کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھں گے کہ کیا کرنا ہے اس موقع پر چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وکلاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ایساکرتے ہیں ہم سب وہاں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہاں کے لوگ کتنے محب وطن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں