754

نواز شریف اور مریم نواز لاہور پہنچے پر گرفتار، اڈیالہ جیل منتقل

اسلام آباد—سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو لندن سے لاہور پہنچے پرنیب نے گرفتارکرلیا بعد میں طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایاگیا جس کے بعد دونوں کو اڈیالہ جیل منتقل کردیاگیا ۔دونوں رہنما نجی ایئرلائن اتحاد کی فلائٹ نمبر ای وائے 243 کے ذریعے لندن سے براستہ ابوظہبی، لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے، تاہم پرواز ابوظہبی میں 2 گھنٹے تاخیر کے بعد لاہور کے لیے روانہ ہوئی۔پہلے یہ پرواز شام سوا 6 بجے لاہور پہنچنی تھی، تاہم تاخیر کے باعث نواز شریف اور مریم نواز تقریباً پونے 9 بجے لاہور پہنچے۔طیارے کے اترتے ہی 3 خواتین اہلکاروں سمیت نیب کی 16 رکنی ٹیم نے قانونی کارروائی شروع کردی۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے 3 اہلکار بھی جہاز کے اندر پہنچے اور نواز شریف اور مریم نواز کے پاسپورٹس تحویل میں لے کر ان کی امیگریشن جہاز کے اندر ہی کر لی گئی۔تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں کو سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد خصوصی طیارہ انہیں لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔خصوصی چارٹرڈ طیارہ تقریباً 45 منٹ کی پرواز کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو لے کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی بھی موجود تھے۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے سہالہ پولیس ٹریننگ کالج ریسٹ ہاؤس کو اگلے احکامات تک سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جانا تھا۔تاہم کچھ دیر بعد چیف کمشنر نے دوسرا نوٹی فکیشن جاری کیا جس کے مطابق صرف مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جائے گا، جس کے باہر اسلام آباد پولیس کے اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔اسلام آباد ایئرپورٹ سے نواز شریف اور مریم نواز کو الگ، الگ اسکواڈ کے ذریعے روانہ کیا گیا، تاہم جیل قوانین کے مطابق دونوں کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔دوسری جانب نیب پراسیکیوشن ٹیم نے احتساب عدالت سے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی استدعا کی۔نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے مجرمان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔احتساب عدالت نے نتیجتاً مجسٹریٹ وسیم احمد کو وارنٹ جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے مقرر کیا۔اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ادھر آن لائن کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور صاحبزادی مریم نواز کو لندن سے واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر گرفتار کر لیا گیا تفصیلات کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کی فلائیٹ تقریباً پونے9بجے لاہور ایئر پورٹ پر اتری طیارے کی لینڈنگ کے بعد جہاز کے اندر موجود20سے زائد لیگی رہنماؤں نے نواز شریف اور مریم نواز کو گھیرے میں لے لیا تاہم رینجرز اہلکار طیارے کے اندر داخل ہو گئے جنہوں نے تمام مسافروں کو اترنے کی ہدایت کی نیب کی 3رکنی ٹیم نواز شریف اور مریم نواز کے وارنٹ لے کر طیارے کے اندر داخل ہوئی۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے طیارے میں داخل ہو کر نواز شریف اور مریم نواز کے پاسپورٹ لے لئے اور نواز شریف اور مریم نواز کو رینجرز اہلکاروں نے گرفتار کر کے طیارے میں ہی روک لیا گیا۔ طیارے سے اترنے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز نے ایئر پورٹ پر کھڑی گاڑی میں بیٹھنے پر بیٹھنے پر مزاحمت کی ۔ نواز شریف کی گرفتاری کے وقت لیگی کارکنوں اور رینجرز اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ نواز شریف گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے ٹرمینل پر پیدل چل پڑے۔ تاہم اے ایس ایف کے اہلکاروں نے مریم نواز اور نواز شریف کو گھیرے میں لئے رکھا خواتین اہلکاروںنے مریم نواز کو باقاعدہ حراست میں لیا اور ساتھ ہی رینجرز نے نواز شریف کو بھی حراست میں لے کر خصوصی طیارے میں سوا کرادیا اور طیارے کے دروازے بند کردیئے گئے نواز شریف کا سامان بھی خصوصی طیارے میں شفٹ کیا گیا نواز شریف کی گرفتاری کے بعد خصوصی طیارہ لاہور سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگیا دوسری جانب ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف اور مریم نواز کی لاہور ایئر پورٹ آمد سے قبل نیب کی ٹیم نے اسلام آباد میں بھی تمام تیاریاں مکمل کررکھی تھیں اور ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محبوب عالم کی سربراہی میں اسلام آباد ایئر پورٹ روانہ ہوئی ٹیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدنان بٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر گل انور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبی خان ، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جی ارمد شامل تھے۔ راولپنڈی میں ہیلی کاپٹر کے اطراف پولیس نے سرچ آپریشن کیا اور ہیلی پیڈ سے جیل تک راستے کے اطراف میں رینجرز نے سکیورٹی سنبھالے رکھی۔قبل ازیں نواز شریف اور مریم نواز کے طبی معائنے کے لئے میڈیکل بورڈ اڈیالہ جیل پہنچا ۔ میڈیکل بورڈ اسلام آباد پولی کلینک ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل تھا جس کے چیئر مین کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر آصف تھے بورڈ میں شعبہ نیفرالوجی، شعبہ میڈیشن، شعبہ امراض قلب کے ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ ڈاکٹروں میں ڈاکٹر حامد اقبال، ڈاکٹر امتیاز احمد ڈاکٹر عاصمہ کیانی شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ نیب کی درخواست پر تشکیل دیا گیا جو اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور مریم نواز کا طبی معاہدہ کر کے رپورٹ نیب کو دے گا۔ میڈیکل بورڈ جدید طبی آلات اور ایمبولینس کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچا تھا۔دوسری جانب آئی این پی کے مطابق نیب کی استدعا پر احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کے جوڈیشل وارنٹ جاری کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو جب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور مریم نواز کوگرفتاری کے بعداسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ لایا گیا توا س دوران ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دینے والے جج محمد بشیر جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کردونوں کو جیل بھیجنے کے سلسلے میں ضروری قانونی کارروائی کے احکامات جاری کئے اور ان کی حوالگی کے لئے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیا جس نے ملزمان کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کیا ۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے احتساب عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف اور مریم کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر احتساب عدالت پیش نہیں کرسکتے، نواز شریف، مریم نواز سزا یافتہ مجرم ہیں، جیل بھیجا جائے ۔نیب پراسیکیوٹرسردارمظفرعباسی کا اسلام آباد احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو عدالت میں پیش کرناممکن نہ تھااور اس وقت سیکورٹی رسک بھی تھا۔ سردارمظفرعباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو نیب یاپولیس کی تحویل میں زیادہ دیرتک نہیں رکھا جاسکتا تھا اس لیے عدالت میں جج نے جلد آڈر پاس کرکے انہیں جیل روانہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اور مریم کو عدالت میںپیش کرنا ممکن نہ تھا ، اسی وجہ سے عدالت سے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کرنے اور انہیں حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی تھی۔ اس پر احتساب عدالت نے جوڈیشل وارنٹ کیلئے مجسٹریٹ مقرر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مریم کی قید کا وارنٹ جاری کردیا مجسٹریٹ نے اڈیالہ جیل جاکر دونوں کو سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں