756

ادارے ہاتھی کی طرح بد مست ہوچکے ہیں ترقیاتی سکیموں پر ایڈمنسٹریٹیواپرول کے باجود ٹینڈر نہیں ہورہے ہیں،ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان

گلگت(مہتاب الرحمن) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اجلاس کے موقع پر نے کہا کہ ادارے ہاتھی کی طرح بد مست ہوچکے ہیں ترقیاتی سکیموں پر ایڈمنسٹریٹیواپرول کے باجود ٹینڈر نہیں ہورہے ہیں اگر ادارے کام نہیں کرتے ہیں تو تمام ممبران میرے ساتھ آ ئیں چیف سیکریٹری آفس سمیت تمام دفتروں اور اسمبلی کوبھی تالے لگادیں گے،اور گھڑی باغ میں عوامی عدالت لگا کر قوم کو آگاہ کریں گے کہ ترقیاتی سکیموں میں تاخیر اور التواء کے ذمہ دار کون ہیں؟کام ادارے نہیں کرتے ہیں اور بدنام حکومت ہوتی ہے افسر شاہی اپنے آپ کو حکومت سمجھتے ہیں اصل حکومت ہم ہیں اداروں میں بیٹھے لوگ فرقہ پرستی،قوم پرستی اور مذہب پرستی میں ملوث ہیں،ترقیاتی منصبوں میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں تین سال گز گئے پی ڈبلوڈی،محکمہ تعلیم،اور محکمہ صحت،سمیت دیگر اداروں میں ممبران اسمبلی کے سکیموں پر ٹینڈر نہیں کئے جارہے ہیں یہ نظام کہاں سے خراب ہے اس کا پتہ لگانا ہوگاکون لوگ ہیں جو حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں،اپوزیشن ممبران کے تحفظات دورست ہیں کہ ایک سال سے ممبران کی اے ڈی پی سردخانے میں ہے،اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگوں کی شپلنگ کا مطالبہ کرتے ہیں تو ایماندار افسروں کو اٹھاکے پھینک دیا جاتا ہے اور کرپٹ لوگوں کو مسلط کردیا جاتاہے اس طرح سے نظام کسی صورت بہتر نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ محکمہ ایگری کلچر کا ایک کیشئر اڑھائی کروڈ روپے کرپشن کرتا ہے تو دیگر محکموں میں کتنی کرپشن ہوگی محکمہ جنگلات میں کرپشن ہوئی اور محکمہ جنگلات کے وزیرنے تنگ آکر وزیراعلیٰ سے شکایت کردی انہوں نے کہاکہ وفاق ہمیں بہت بجٹ دیتا ہے جس کا ہم شکر گزار ہے مگر وفاق سے آنے والے بجٹ میں ادارے ہیرا پھیری کرتے ہیں اس کے لئے ایوان کو ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو تمام محکموں میں فنڈز کے استعمال کا جائزہ لے گی اور تفصیلات طلب کریگی ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ کہا تین سا ل کے دوران گلگت ڈولپمنٹ اتھارٹی کو جو سکمیں میرے حلقے میں دئے تھے صرف انہی سکیموں پر کام ہورہا باقی تمام سکمیں صرف فائلوں میں گردش کررہی ہے پی ڈبلو ڈی سے پوچھے ہیں تو وہ ایل جی آرڈی کا نام دیتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں تو پلانگ کا نام دیتے ہیں اسی طرح ہمارے تین سال گزرگئے سکیموں پر کام نہیں ہوا عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ کام کیوں نہیں ہورہا ہے یہی صورتحال تمام ممبران کے ساتھ ہے ممبران اسمبلی سکیمیں اپنے گھر کے لئے نہیں دیتے ہیں عوام کے لئے دیتے ہیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم صرف پانچ سال کے لئے آتے ہیں تو وہ لوگ سرکار کے ملازم ہیں انہوں نے حکومت کا کام کرنا ہے نہ وہ اداروں میں بھاری مراعات اور تنخواہ لیکربدمست ہوچکے ہیں انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اس سے قبل اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع خان نے کہا کہ تین سال کے عرصے میں ممبران کو صرف 2اے ڈی پی ملی ہیں اس میں سے ایک اے ڈی پی مکمل غائب ہے اور دوسری اے ڈی پی میں سکیمیں ری فلیکٹ نہیں ہیں انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو سکمیں اور فنڈز دئے جاتے ہیں جو حکومت کے چہتے ہیں اپوزیشن لیڈر نے کہا ہم جیسے تیسے دوسال کا عرصہ گزارا ہے مگر اس دفعہ ممبران اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں اپوزیشن ممبران کے ساتھ امتیازی سلوک کیاگیا تو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے،اجلاس کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے کہا کہ سیکریٹریز نہ صرف ممبران اسمبلی کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں بلکہ وزراء کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتے ہیں اور ان کی بات نہیں مان رہے ہیں اس لئے یہ سارانظام بگڑا ہوا ہے جاوید حسین نے کہا کہ میرے حلقے میں فنانس کے ایک ڈرائیور کی فرمائش پر پانچ کلو میٹر سٹرک دی گئی ہے اور میری سکمیں ابھی تک اپرو نہی ہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ہماری اے ڈی پی گئی کہاں؟اس کے لئے اسمبلی سے جاندار رولنگ دی جائے تاکہ اس معاملے کا حل نکل سکے،اجلاس کے موقع پر لیگی رکن اسمبلی برکت جمیل اور صوبائی وزیرتعلیم ابراہیم ثنائی سمیت اپوزیشن رکن حاجی رضوان نے بھی گزشتہ سال کی اے ڈی پی غائب ہونے کی شکایت کردی اور جامع حل نکالنے کے لئے سپیکر پر ذور دیا۔جس پر نے رولنگ دیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت کردی کہ 15دن کے اندر ممبران اسمبلی جمع سکیموں پر ایڈمنسٹریٹیو اپرول اور جن سکیموں پر ایڈمسٹریٹیو اپرول دیاگیا ہے ان کا 15روز میں ٹینڈر کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں