سکردو(چیف رپورٹر) واپڈا نے سدپارہ ڈیم کے ناکام بجلی گھروں کو کم از کم تین ماہ کے لئے بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے کہا جارہا ہے ڈیم میں پانی پچھلے سال کی نسبت 55 فٹ کم ہے اور پانی ڈیڈ لیول سے بھی نیچے ہے اگر بجلی کے لئے جو پانی در کار ہے وہ جاری رہی تو اگلے ایک ماہ کے بعد سکردو شہر کو پینے کے پانی مکمل طورپر بند ہوجائے گا ایسے میں بجلی کی خاطر پانی ضائع نہیں کیا جاسکتا زرائع کے مطابق واپڈا پاؤر ہاؤس کو چلانے کے لئے 200 کیوسک پانی درکار ہے تاہم، اسوقت صرف 100 کیوسک پانی مل رہا آئندہ دنوں میں یہ اور بھی کم ہوگا۔سکردو ٹاؤن ایریا میں صارفین کی تعداد 16 ہزار ہے جبکہ بجلی کی ڈیمانڈ گرمیوں میں 25 میگاواٹ جبکہ سردیوں میں 16 میگاواٹ ہے جو کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہے واپڈا کے ناکام بجلی گھروں کی پیدواری صلاحیت 17 میگاواٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ ابھی تک ان بجلی گھروں سے پورا ڈیم خالی ہوا اتنی بجلی پیدا ہوئی ہی نہیں جو قابل مذمت اور تشویشناک بات ہے جس منصوبے پر کروڑوں خرچ کی گئی ہو وہ ناکام کیوں ہوا یہ بھی اپنی جگہ بہت جاندار سوال ہے؟زرائع کے مطابق واپڈا پاؤر ہاؤس سے گرمیوں میں 7 سے 8 میگاواٹ جبکہ سردیوں میں 4 سے 5 میگاواٹ بجلی کی فراہمی جاری ہے جس سے شہر کی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہیں۔۔ادھر محکمہ برقیات والے اس انتظار میں ہے کہ ڈیم بند کر کے واپڈا والے عوام کے سامنے کب بدظن ہوتے ہیں اور انہیں ڈیزل جنریٹر ز چلانے کا موقع کب ملتا ہے کیونکہ جتنا واپڈا کے بجلی گھر پانی ضائع کرتے ہیں بدقسمتی سے محکمہ برقیات کے ڈیزل جنریٹرز بھی اتنا ہی ڈیزل کھاتا ہے مگر بجلی نہ ہونے کے برابر ہی ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ محکمے کے ڈیزل خور مافیا ہے۔۔بہر حال اگر واپڈا پاؤر ہاؤس بند ہوگی تو خاص فرق تو نہیں پڑے گا کیونکہ ماضی میں بھی اکثر بند ہی رہا ہے مگر ڈیزل جنریٹرز کے زریعے شہر میں بجلی کی ضروریات پوری کرنا ہوگا اس کے علاوہ کھرمنگ اور روندو سے بجلی سکردو تک لایا جاسکتا ہے جس پر پہلے ہی چیف سیکریٹری کے احکامات کی روشنی میں کام ہورہا ہے بہر حال سکردو کت شہریوں کو یہ سردیاں بھی موم بتی پر گزارنا ہوگا واپڈا کسی بھی وقت ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کرے گا جو کہ حتمی فیصلہ ہوگا پینے کی پانی کی ضرورت پورا کرنے کے لئے۔۔۔
728









