گلگت (چیف رپورٹر)جوٹیال ذوالفقار آباد میں آئے روز اوباش لڑکوں کی حرکات کی وجہ سے وہاں کی خواتین کا گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ہے۔ اوباش لڑکے گاڑیوں اور بائیکس پر ذوالفقار آباد سے گزرتے ہیں اور راستے میں جو لڑکی نظر آتی ہے اس کو تنگ کیا جاتا ہے اور ان کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اوباش لڑکے خواتین کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ عمائدین ذوالفقار آباد کا کہنا ہے کہ اگر ہماری ماؤں بیٹیوں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا اور یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے ذمہ دار عمائدین ذوالفقار آباد نہیں ہونگے۔ یہاں پر جوٹیال تھانہ اور وہاں پر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ پبلک کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں ہیں۔ عمائدین ذوالفقار آباد کا مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیئے اقدامات کئے جائیں۔ گلگت بلتستان کی پہچان ہی یہی ہے کہ یہاں پر خواتین کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ذوالفقار آباد میں ہلہ مچانے والے اوباش لڑکوں کی وجہ سے یہاں خواتین گھروں سے نکلنے سے گھبراتی ہیں۔ گلگت بلتستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے لوگ بہت زیادہ پڑھے لکھے ہیں اور پڑھے لکھے معاشروں میں اس قسم کی حرکتیں زیب نہیں دیتیں۔ عمائدین ذوالفقار آباد کا اعلی حکام سے مطالبہ ہے ان کی ماوں بیٹیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے وگرنہ احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔
675









