اسلام آباد—سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے گلگت وبلتستان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کشمیر اور گلگت وبلتستان میں اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن نے تھری جی اور فور جی پربندی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے رکھاہے۔ جی بی اور آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ دینے کیلئے حکمت عملی تیار ہے جس سے ملک میںسیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو گرانٹس دینے پر پیش رفت این ایف سی ایوارڈ کے بعد ہوگا، جب تک این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ نہیں ہو تا اس وقت تک گرانٹس کا فیصلہ نہیں کرسکتے، وفاقی وزیر خزانہ نے چاروں صوبوں کو اپنے اپنے نمائندے نامزد کرنے کیلئے خط لکھا ہے۔بدھ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر کا اجلاس چیئرمین سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت منعقد ا۔ جس میں سینیٹر سراج الحق، انوار لعل دین اور نگہت مرزا نے شرکت کی۔کمیٹی کو سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے بتایا کہ جی بی آرڈر2018 ء کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے، سپریم اپیلیٹ کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کی تھی کہ اس کی نفاذ کیلئے کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، گلگت بلتستان حکومت نے جواب بھیجا ہے کہ گندم سبسڈی ختم نہیں کی گئی،انسداد دہشتگردی ایکٹ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جارہا ،سی پیک کے منصوبے گلگت بلتستان میں بھی شروع کیے جارہے ہیں۔سیکرٹری وزارت امور کشمیرنے کہا کہ 27 اکتوبر کو پورے ملک میں یوم سیاہ منانے کیلئے وزارت امور کشمیر نے تیاریاں مکمل لیں ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری امور کشمیر فوکل پرسن ہوں گے،اقوام متحدہ کی رپورٹ کی روشنی میں عالمی دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی طرف مبذول کرائیں گے،اقوام متحدہ رپورٹ سے ہی یوم سیاہ کے حوالے سے مہم کا آغاز کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گنز کی ویڈیو کلپس بنا کر مختلف چینلز پر چلانے کیلئے پیمرا سے درخواست کی ہے، پیلٹ گنز کے حوالے سے خاص طور پر ویڈیو کلپس بنائی ہیں،پاکستان کے کچھ چینلز بھارت میں زیادہ دیکھے جاتے ہیں ان پر بار بار چلانے کیلئے پیمرا سے خصوصی درخواست کی ہے،پاکستانی سفارتخانے بھی یوم سیاہ کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ یوم سیاہ کے حوالے سے ہونے والے سیمینار کے بارے میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے بات کرنے کیلئے رابطہ کیا تو وہ ملک سے باہر تھے، ان کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا،گلگت بلتستان حکومت سے بریفینگ لیناان کے کام میں مداخلت نہیں ،کمیٹی جی بی اور کشمیر کی ترقی کیلئے ہی بات کرتی ہے،سیاحت کا شعبہ انتہائی اہم ہے، اس پر جامع بریفینگ کی ضرورت ہے، افسران آئے ہیں تو آئندہ بھی آئیں گے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم سے پہلے بھی سیاحت کا مرکز تھا،آج بھی کشمیر، ہزار اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار وسائل ہیں، ان علاقوں کے بارے میں دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے،سیاحت کے ذریعے ملک کی معیشت تبدیل ہو سکتی ہے،ترکی میں سالانہ دوکروڑ سیاح رخ کرتے ہیں،دیر بالا اور دیر پائین کے بے شمار لوگوں نے کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں ہیں، انہیں کچھ نہ دے سکے تو کم از کم ایک تعریفی سرٹیفکیٹس دیا جائے۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت امور کشمیر نے کمیٹی کو بتایا کہ یوم سیاہ کے حوالے سے سیمینار27 اکتوبر2018 کو صبح10:30 PIPS اسلام آباد میں منعقد ہوگی،جس میں کمیٹی کی سفارش کردہ مہمانوں کو دعوت دی گئیں ہیں،اس دن پینا فلیکس کے ذریعے کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجا گر کیا جائے گا، سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوں گے، سیاحت کا شعبہ وفاقی حکومت کے پاس تھا، جی بی اور کشمیر کونسل کے خاتمے کے بعد یہ شعبے متعلقہ حکومتو ں کے پاس چلی گئیں۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیاحت اور ترقیاتی کاموں پر تفصیلی بریفینگ طلب کرلی۔
686









