706

حکومت اور واپڈا حکام دیامر کے تمام متاثرین اور قبائل کے ساتھ تمام قبائل کو قابل قبول معاہدہ کریں،متاثرین

چلاس متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم اور تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے زیر اہتمام استحکام پاکستان کے عنوان سے ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے میں ضلع بھر کے مختلف علاقوں ،تھک نیاٹ، بابوسر، ہڈور، گینی، تھور، بونیر اور دیگر جگہوں سے ہزاروں متاثرین ڈیم نے شرکت کی۔جلسے میں متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم نے ایک مخصوص گروہ کے ایما اور رشوت کے بل بوتے پر کیا گیا بدنام زمانہ معاہدہ 2010کے خلاف سخت عوامی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور واپڈا حکام دیامر کے تمام متاثرین اور قبائل کے ساتھ تمام قبائل کو قابل قبول معاہدہ کریں تاکہ دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر ممکن ہوسکے ،جلسے میں کہا گیا کہ کمشنر دیامر ڈویژن ڈیم کی تعمیر کے خلاف سازشیں کررہا ہے اور اندرون خانہ ڈیم مخالف سرگرمیوں کے ذریعے متاثرین کو وفاقی حکومت اور واپڈا کے خلاف اُکسا رہا ہے ،حکومت کمشنر دیامر ڈویژن کی مشکوک سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ ضیاء اللہ تھکوی،نائب صدرمشتاق،نمبردار زبیر،مولانا مطیع الحق،کالا خان،سراج منیر،مولانا سجاء الحق،،ضیاء بادشاہ،صوبیدار ریٹائرڈ نکیر، غلام جان ،شفاعت اللہ،طاہر ایڈوکیٹ،عبدالواحید،رحمت شاہ ،مبشر و دیگر نے کہا کہ ماضی حکومتوں نے ایک مخصوص طبقے کو نوازنے کیلئے دیامر ڈیم کے 80فیصد متاثرین کو دیوار سے لگایا ہے اور حکومت نے ایک ایسے گروہ کے زاتی مفادات کو تحفظ دی ہے جو ریاست کے خلاف زہر اُگلتے پھررہے تھے،حکومت نے ماضی میں سرکاری املاک جلانے ریاستی پرچم نذر آتش کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے وہی ملک دشمن عناصرایک بار پھردیامر کے امن کو تباہ کرنے کیلئے کارنر میٹنگز کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈیم کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصرکو عبرت ناک سزا دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے چیف جسٹس اور وزیر اعظم کے حالیہ اقدامات کو سراہتے ہیں ۔ تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ اور عوام دیامر ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے اپنے بساط کے مطابق چندہ جمع کرائیں گے،جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مزید کہا کہ متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم حکومت اور واپڈا حکام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دیامر بھاشہ کی تعمیر و تکمیل کے حوالے سے غیر مشروط حمایت و تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کمشنر دیامر استور ڈویژن واپڈا اور متاثرین کیلئے مسائل پیدا کررہے ہیں ،متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کا ایشو جو کہ اندرون خانہ حل کے قریب تھا ،کمشنر دیامر نے واپڈا اور وفاقی پالیسیوں کے خلاف خفیہ سازشوں کے ذریعے ایک بار پھر غلط ڈگر پر ڈال دیا اور مٹھی بھر لوگوں کو ناجائز اور غیر سنجیدہ مطالبات پر اُکساتے ہوئے اُبھارا ،کمشنر دیامر قبائل کے مابین جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں ،اگر کمشنر کا قبائل کے ساتھ یہی رویہ رہا اور سازشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو قبائل کے درمیان خونی تصادم کا خطرہ ،کمشنر اپنا قبلہ درست کریں یا یہاں سے چلے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر ڈیم متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کے حوالے سے سازشی جلسے کرنے کے بجائے واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ سنجیدہ مذکرات کیئے جانے چاہے ،متاثرین کو ڈھال بناکر ایک مخصوص گروہ ملک دشمن سازشوں کا حصہ بن رہا ہے ،ایسے عناصر کو بے نقاب کرکے عبرت ناک سزا دی جائے ،واپڈا حکام آباد کاری کے حوالے سے فوری اقدامات کریں ،رکاوٹ بننے والوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تھک نیاٹ اور بابوسر کے عوام سی پیک کی مکمل حمایت کرتے ہیں ،افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،اور سی پیک کی کامیابی کیلئے اپنی بساط کے مطابق محنت کرنے کے خواہاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ متاثرین ڈیم کو ان کے خواہشات اور مرضی کے مطابق آباد کیا جائے ،ڈیم متاثرین کی ایک بڑی تعداد نقدی لینا چاہتی ہے حکومت انہیں انتہائی موزوں رقم دے تاکہ وہ اچھی اور کمرشل جگہ میں خود پلاٹ لے سکیں ۔،آباد کاری کے حوالے سے متاثرین ڈیم کی فردا فردا ریفرنڈم کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص مفاداتی ٹولہ سازشوں پر مبنی ایجنڈا کے تحت مختلف جگہوں پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریاست کے خلاف زہر اُگلتے ہیں اور اداروں پر تنقید کرتے ہیں ،ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد معاہدہ 2010کا راگ الاپنے والے ملک دشمن عناصرجنہوں نے اُس وقت رشوت کے بنیاد پر معاہدہ کرکے تمام معامالات اپنے مخصوص طبقے کے مفادات کی تحفظ کیلئے استعمال کیا ۔معاہدہ 2010ایک مخصوص طبقہ کی دستاویز ہے اس دستاویز کو متاثرین دیامر بھاشہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ،لہذا تمام متاثرین کے ساتھ ازسر نو معاہدہ کیا جائے،تاکہ سب کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔دیامر ڈیم کی رائلٹی میں دیامر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہے ،دیامر ڈویلپمنٹ آتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے اور تمام قبائل کو آبادی کے بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔واپڈا دیامر میں سوریج کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے۔سی بی ایم کی سکمیوںمیں تمام نالہ جات کو برابری حصہ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں