گلگت(وجاہت علی) متاثرین دیامربھاشا ڈیم کمیٹی نے گلگت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کے لئے وفاقی حکومت نے 101 ارب روپے جاری کئے ہیں ہمیں نہیں دینے کے لئے آپس میں لڑایا جارہا ہے واپڈا اور گلگت بلتستان حکومت مکمل طور پر دیامر بھاشا ڈیم کی مخالفت میں سرگرم عمل ہے جوکہ قابل گرفت قابل افسوس اور پاکستان کیسب سے میگا پراجیکٹ کی تکمیل میں دانستہ طور پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے سونیوال قابئل کا کام سونا نکالنے کا ہے ملکیت کے وہ حقدار نہیں.جمرات کے روز متاثرین دیامر ڈیم کمیٹی جن میں مولانا محمد وصل خان مولانا عبدالبر مولانا محمد زمان جمعہ میر شیت اللہ نجیب اللہ مولانا اشرف و دیگر نے کہا کہ ڈیم کے اندر ڈوبنے والوں کو آباد نہیں کیا گیا تو ڈیم کی تعمیر کیسے ممکن ہوسکتی ہے متاثرین دوبارہ آباد کاری کے نظام کے لے سخت قسم کے بے چیی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ اب وہ اپنے مستقبل کو کس طرح محفوظ کرسکے.ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت واپڈا و صوباء حکومت گلگت بلتستان کو اسلام آباد معاہدہ 2010 میں ہوا تھا کو روڈ میپب بنا کر متاثرین ڈیم کو دوبارہ آباد کاری ضلع دیامر میں کرانے کا حکم صادر فرمایا جاے متاثرین ڈئم اپنا علاقے کو چھوڑ کر کہی اور آباد ہونا نہیں چاہتے ہیں لہذا ہمیں دیامر میں ہی اباد کیا جائے انھوں نے کہا کہ دیامر ڈیم کرپشن کیس میں نیب حرکت میں ایا ہے بہت جلد تمام حقائق سامنے ائینگے۔صوبائی حکومت متاثرین ڈیم کو ماڈل ولیجز بنا کر دینے کے بجائے مختلف قوموں کے نام پر دیامر کے عوام کو اپس میں لڑا رہی ہیں جو کہ قابل افسوس ہے اور اس سازش کی وجہ سے ملک کا ایک عظیم منصوبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔لہذا چیف جسٹس ثاقب نثار فوری طور پر ایکشن لے اور دیامر ڈیم کے متاثرین کے مسائل حل کرائے۔
824









