گلگت———- قومی سلامتی کمیٹی سے منظوری کے بعد گلگت بلتستان آرڈر2018کا باقاعدہ نفاذ کردیا گیا ۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور صوبائی مشیر اطلاعات شمس میر نے گلگت میں پریس کانفرنس کے زریعے کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقامی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے تمام آل پارٹیز کانفرنس کی روشنی میں سفارشات پر مبنی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں ۔ ۔ گلگت بلتستان کو تمام مالیاتی اداروں میں نمائندگی دی گئی ہے اور ہر سیشن میں گلگت بلتستان کی نمائندگی موجود ہوگی جن میں ایکنک، ارسا اور دیگر ادارے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے بدنام ترین دور میں متعارف کردہ ٹیکس کو ختم کرکے سنگ میل عبور کرلیا ہے پیپلزپارٹی کے پاس سوائے ‘کاچو فیاض ‘کے کوئی اور تمغہ نہیں ہے یہ ان کی کارکردگی ہے اور کاچو امتیاز بھی کاچو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان 2018آرڈر کی روشنی میں سٹیزن ایکٹ 1951کو جی بی تک توسیع کردی گئی ہے جس میں شرط ہے کہ کوئی بھی فرد گلگت بلتستان میں مستقل سکونت اور مقامی ڈومیسائل کے حصول کے بغیر گلگت بلتستان کا شہری نہیں کہلایاجاسکتا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ہمیں خود شرم محسوس ہورہی ہے جنہیں آئین اور حقوق کی تعریف بھی معلوم نہیں ہے اور جو گلگت بلتستان کونسل میں اپنا ووٹ نہیں بچاسکے ہیں وہ گلگت بلتستان کے آئین اور حقوق پر بات کررہے ہیں ۔ کاچو امتیاز ، نواز خان ناجی اور تمام ممبران سے کونسل الیکشن سے وصول کردہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے اسی وجہ سے وہ اس آرڈر کو رکوانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں ۔ کاچو امتیاز کی قرارداد کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی میں آرڈر کو پیش کیا گیا اور اس پر بحث کرائی گئی ہے مگر کاچو امتیاز ، شفیع خان ، اور جاوید حسین کا چونکہ الگ اور مخصوص ایجنڈا ہے اسی لئے انہوں نے بحث کا حصہ بننے سے بھی انکار کردیا ہے ۔ اپوزیشن کے رکن حاجی رضوان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد حکومتی اقدام کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان سمیت تمام اپوزیشن ممبران کا کام سوائے عوام میں افراتفری پھیلانے کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018کے حوالے سے جتنا منفی کردار اپوزیشن رہنمائوں نے ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ اپنے زاتی مفادات کے حصول کے لئے گلگت بلتستان کے قومی مفادات کا سودا کرنے کی کوشش کی ہے جو لوگ پاکستان اور پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کررہے تھے وہ لوگ آج پارلیمنٹ آف پاکستان کے سائے میں دھرنے کی تیاری کررہے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کی پالیسی کو گلگت بلتستان کے عوام نے مسترد کردیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام میں اب سیاسی شعور بیدار ہوچکا ہے یہاں کی عوام گلگت بلتستان کی ارتقائی صورتحال کو آسانی سے سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جی بی کے طلباء نے ملک کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں انٹیلکچوئل بنیادوں پر فورمز کا انعقاد کیا ۔ تعلیمی بنیادوں پر کرائے گئے فورمز پر سوائے حکومتی رہنمائوں کے کسی کے پاس بولنے کے لئے بھی کچھ نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اپوزیشن نے گزشتہ تین ماہ کے دوران جتنی منفی سیاست کی ہے وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام کو پھسلانے کے لئے ‘آرمی چیف ‘ کے نام پر مطالبے کئے جارہے تھے ۔ گزشتہ دنوں قومی سلامتی کمیٹی میں ملک کے تینوں عسکری آرمی چیف نے اس آرڈر کی توثیق کردی جو کہ ان منفی سیاست اور منفی کردار کے حامل لوگوں کے لئے باعث شرمندگی اور ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ان تمام مزاحمتوں کا بردباری سے سامنے کیا ہے اور گلگت بلتستان اور یہاں کے عوام کے بہتر مستقبل اور مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نیا آرڈر متعارف کرایا ہے ۔ ہمیں اس آرڈر کے باقاعدہ نفاز کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے گلگت بلتستان کے عوام کو نئی صبح اور نئی امید کی کرن مبارک ہو ۔اصلاحات کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانا اور دیگر صوبوں کو ملنے والے حقوق تک رسائی دینا ہے ۔ گلگت بلتستان میں سیاسی یتیموں نے سوشل میڈیا میں اڑنے والے جعلی دستاویزات کو بنیاد بناکر عوام کو غلط راہ دکھانے کی کوشش کی جن کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے ۔ گلگت بلتستان 2018آرڈر میں عدلیہ ،مقننہ اور انتظامی سطح پر اصلاحات متعارف کرائے گئے ہیں جو گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی ضرورت تھے ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018میں گلگت بلتستان کے شہریوں کو تمام بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے گزشتہ امپاورمنٹ آرڈر میں صرف 17بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی اور ان کا دائرہ اختیار صرف گلگت بلتستان تک محدود تھا ۔ موجودہ آرڈر 2018کی روشنی میں گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری ملک کے کسی بھی کونے میں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرسکتا ہے اور مقامی شہریوں کو پاکستان کی تمام اعلیٰ عدالتوں تک رسائی مل چکی ہے ۔ پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں ججوں کی تقرری کو سیاسی وابستگی اور دبائو سے پاک کرنے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرے گا ۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ کا نام تبدیل کرکے ہائی کورٹ رکھ دیا گیا ہے ۔ اور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد وکلاء برادری کے مطالبے پر بڑھادیا گیا ہے ۔ سپریم اپیلٹ کورٹ جی بی میں چیف جسٹس کے عہدے پر صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کا ریٹائرڈ جج ہی تقرر ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی رکھ دیا گیا ہے ۔ گلگت بلتستان اسمبلی کواب قانون سازی کے حوالے سے وہ تمام حقوق میسر ہونگے جو ملک کے دیگر صوبوں کی اسمبلیوں کو حاصل ہیں ۔ گلگت بلتستان کونسل کے پاس موجود اختیارات سمیت منرلز، ہائیڈر، پاور اور سیاحت کا شعبہ بھی گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل کردیا گیا ہے جس کی روشنی میں گلگت بلتستان اسمبلی قانون سازی کرسکے گی ۔ گلگت بلتستان اسمبلی کو آئین پاکستان کے شیڈول فور کے تحت وہ تمام اختیارات منتقل ہوگئے ہیں جو دیگر اسمبلیوں کے پاس ہیں انہوں نے ‘اختیارات کا منبع وزیراعظم ‘کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018میں واضح لکھا گیا ہے کہ وزیراعظم کے پاس وہی اختیارات ہونگے جو ملک کے دیگرصوبوں کے حوالے سے موجود ہیں آئین پاکستان کی پرنسپل آف پالیسی کو گلگت بلتستان 2018 آرڈر میں شامل کیا گیا ہے اب یہ کسی کو بھی آئین پاکستان کے مطابق تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ وزیراعظم پاکستان کے پاس صرف قومی اور وفاقی امور کے معاملات میں اختیارات موجود ہیں باقی سارے اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل کردئے گئے ہیں ۔
690









