گلگت(پ-ر )متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا ایک اہم اجلاس پری بجٹ سیمینار کو ایک افتار پارٹی قرار دیتے ہوئے شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ کر دیا. متحدہ اپوزیشن نے پری بجٹ سیمینار کو گلگت بلتستان کے سرکاری خزانے کو لاکھوں کا ٹیکہ لگانے کا منصوبہ قرار دیا. حکومت اگر مخلص ہوتی تو فروری اور مارچ میں پری بجٹ سیشن بلا لیتی. اپوزیشن ممبران نے ریکوزیشن کے ذریعے اجلاس بلایا تو حکومت نے جان بوجھ کر بحث نہیں کروایا. اب گلگت بلتستان کے عوام کو دھوکہ دینے کیلئے ایک سیمینار بلایا ہے.یہ سیمینار نہیں ایک افتار پارٹی ہے. متحدہ اپوزیشن اس افتار پارٹی میں شرکت نہیں کرے گی. متحدہ اپوزیشن نے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ اگر بجٹ گلگت بلتستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں بنایا گیا تو گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی طرح بجٹ کی کاپیوں کو بھی پهاڑ کر ان کے منہ پر مارینگے.اب حکومت کو من مانی کے فیصلے کرنے نہیں دینگے. متحدہ اپوزیشن نے دیامر سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی عمران وکیل اور حاجی حیدر خان کے اخباری بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر شاہراہ قراقرم پر پھر سے کوئی تخریب کاری ہوئی تو اس کے ذمہ دار یہ دونوں ممبران اسمبلی ہونگے.
709









