675

ممبران اسمبلی کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر:تمام ادارے ذمہ دار ہیں، اقبال حسن

گلگت وزیر پلاننگ اقبال حسن نے کہاہے کہ ممبران اسمبلی کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر ہوئی ہے مگر اس میں صرف پی اینڈ ڈی نہیں تمام ادارے تاخیر کے ذمہ دار ہیں ایک سال قبل جمع کرائے گئے ممبران اسمبلی کے ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر نہ ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے انہوںنے تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب خان کے ایک توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کوبتایا کہ اس ایوان کی ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو تحقیقات کر کے اس بات کا تعین کرے کہ کس ادارے کی غفلت کی وجہ سے ممبران اسمبلی کے ترقیاتی منصوبے ایک سال گزرنے کے باوجود بھی منظور نہیں ہوئے ہیں سپیکر فدا محمد ناشاد نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر سے علاقے کا نقصان ہورہاہے رانی عتیقہ غضنفر علی خان نے کہاکہ یہاں پر آوے کا آوے ہی بگڑا ہوا ہے پی اینڈڈی کو دیکھیں محکمہ تعمیرات عامہ کو دیکھیں یا واٹر اینڈ پاور کو دیکھیں سب جگہ خرابی ہے وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے کہاکہ ممبران کی بات درست ہے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر ہوئی ہے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے کہاکہ جان بوجھ کر ممبران اسمبلی کو نیچا دکھانے کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں تاخیری حربے استعمال ہورہے ہیں بعض سرکاری اداروں کی بدنیتی کی وجہ سے یہ منصوبے منظور نہیں ہورہے ہیں یہ لوگ ممبران اسمبلی کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہوںنے کہا کہ ایل جی اینڈ آر ڈی میں ممبران اسمبلی کے سولہ منصوبے جمع ہوئے تھے جن میں سے صرف ایک منصوبہ منظور ہوا ہے جبکہ پندرہ منصوبے اب بھی منظوری کے منتظر ہیں انہوںنے کہا کہ ایل جی اینڈ آرڈی والے اپنے رشتہ دارں اورادارے کے ملازمین کے منصوبے شامل کر کے فنڈز کو ہڑپ کرتے ہیں اور یہ منصوبے مکمل ہوتے ہیں یا نہیں کسی کو کچھ علم نہیں ہے حاجی رضوان علی نے کہا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ حکومتی ممبران کو سال 2018-19میں دس دس کروڑ کے ترقیاتی منصوبے دئیے گئے ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹ اور حکومتی ممبران کو چھے چھے کروڑ کے منصوبے دئیے گئے ہیں اس سے قبل راجہ جہانزیب خان نے ایک توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ میں اس ایوان کی توجہ انتہائی اہمیت کے حامل موضوع کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوںکہ ممبران اسمبلی سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2015-16کی سکیمیں عرصہ ڈیڑھ سال پہلے جمع کرائی گئی تھیں اورجن کی کاغذی کارروائی بھی مکمل ہو چکی ہے لیکن بدقسمتی سے تاحال مذکورہ سکیموں کے ٹینڈر نہیں ہوئے ہیں ۔لہٰذا بذریعہ توجہ دلائو نوٹس مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2015-16کے سکیموں کی فوری ٹینڈرز کرادیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں