694

نیا پیکج جی بی میں مسلم لیگ (ن) کی سیاست کیلئے تابوت کا آخری کیل ثابت ہو گا

گلگت(چیف رپورٹر)نیا پیکج جی بی میں مسلم لیگ (ن) کی سیاست کیلئے تابوت کا آخری کیل ثابت ہو گا۔پانچ سال آئینی حقوق دینے کا رٹ لگانے والی جماعت نے اقتدار کے آخری ہفتے میں جی بی کے 20 بیس لاکھ عوام کو لالی پاپ دیکر اپنی ہی جماعت کو اپنے انجام کو پہنچانے کی اچھی حکمت عملی طیکی ہے۔ مسلم لیگ ن کا ایف سی آر کا دوبارہ نافذ کرنا وزیر اعلی کی پست زہنیت کی عکاسی کررہا ہے اسمبلی میں موجود نام نہاد عوامی نمائندو ں کی خاموشی معنی خیز ہے۔عوام اس پیکیج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اب جی بی کے عوام اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر ہونگے۔ واقعی میں مسلم لیگ کو کسی سے خطرہ نہیں ہے بلکہ اپنے آپ سے خطرہ ہے یہ بات پی پی پی گلگت بلتستان کے رہنماء محمد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا انھوں نے کہا کہ اس جماعت کو گلگت بلتستان کے عوام نے دو تہائی اکثریت دیکر فیصلہ سازی،قانون سازی اور حکمرانی کا اختیار دے دیا تھا اس امید کے ساتھ کہ حکومت عوام کو بنیادی آئینی،قانونی اور مالی اختیارات دیگی مگر حکمرانوں نے حسب روایت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے تواقعات کو ٹھیس پہنچایا۔اب عوام گلگت بلتستان غیور قوم کے جذبات سے کھیلنے والے ڈمی حکمرانوں کو انکے کئے کی سزا دے کے رہینگے پھر یہ نہ کہنا کہ مجھے کیوں نکالا۔اب حکمرانوں کے تمام حیلے بہانے ختم پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد گلگت بلتستان کی قوم کو کوئی مائی کا لال مزید بیوقوف نہیں بنا سکتا۔اب عوام کے ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچنے کا وقت آپہنچا ہے۔ غیر منتخب وزیر قانون اور مشیر اطلاعات اور ایک بیوکریٹ کے زبان سے نشرکردہ فیکٹری کے مزدوروں کو دی جانے والی پیکج کو جی بی کے غیور عوام جوتی کے نوک پے رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوان اتنے باشعور ہو چکے ہیں اب وہ کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے اور ہر حال میں اپنے حقوق لے کر دم لینگے ریفارمز 2018میں بنیادی انسانی سیاسی و لوکل اختیارات بھی گلگت بلتستان کے سلب کرکے وزیر اعظم کو دیئے گئے ہیں جو عالمی و انسانی حقوق کی مکمل طور پر خلاف ورزی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں