سکردو(پ ر):چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، جناب بابر حیات تارڑنے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اسکردو کا دورہ کیا۔ آڈیٹوریم اور مختلف کلاس رومز کے وزٹ کے ساتھ ساتھ طلبہ سے ان کے مسائل کی بابت دریافت کیا۔ اساتذہ اور طالبات نے ان کے کالج کو فیڈرل بورڈ سے منسلک کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری صاحب نے اساتذہ اور طالبات کو بتایا کہ ڈگری کالج اسکردو کو فیڈرل بورڈ سے منسلک کرنے کا مقصد امتحانات اور اس سے جڑے نظام میں شفافیت لانا ہے۔ مزید برآں اس کا مقصد گلگت بلتستان کے معیار تعلیم کو پاکستان کے باقی صوبوں کے برابر لانا ہے۔ نیز چار سالہ بیچلرز ڈگری پروگرام شروع کردیا گیا ہے تاکہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی سطح پر لاسکیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پرنسپل ڈگری کالج کو ٹیچنگ اسسٹنٹ بھرتی کرنے کے اختیارات تفویض کرنے کے احکامات موقع پر جاری کیے۔ چیف سیکرٹری نے اپنے وزٹ کے دوران دو کلاس رومز میں طالبات کو زمین پر بیٹھے تعلیم حاصل کرتے پا کر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ایکسین تعمیرات کو ہدایت جاری کیں کہ زیر تعمیر بلاک میں دو مزید کلاس روم بنائے جائیں اور زیر تعمیر بلاک کا کام 30 ستمبر سے پہلے مکمل کیا جائے۔ کلاس رومز کی تزئین و آرائش اور مزید کمروں کے لیے بیس لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ نیز پینے کے صاف پانی کے لیے کالج میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے چیف سیکرٹری صاحب کو بتایا کہ ڈگری کالج مستقل فیکلٹی کی کمی کا شکار ہے جس پر چیف سیکرٹری نے حکم جاری کیا کہ مستقل فیکلٹی کی کمی دور کرنے کے لیے 26 اساتذہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے جائیں۔ بعد ازاں کمپیوٹر لیب کا دورہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری صاحب نے وعدہ کیا کہ کمپیوٹر لیب میں پرانے کمپیوٹرز کی جگہ جدید کمپیوٹر متعارف کروائے جائیں گے۔ طالبات نے آمدورفت کے مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے درخواست کی کہ ان کے لیے ایک اور بس کا انتظام کیا جائے جس پر چیف سیکرٹری اور سینیر منسٹر اکبر تابان نے ٹرانسپورٹ بس دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ طالنات کی بھرپور فرمائش پر چیف سیکرٹری نے کالج پرنسپل کو کالج میں ایک نیا کیفے ٹیریا اور طالبات کے لیے پاکستان کے مِتلف علاقوں کے تعلیمی دورے کروانے کی بابت احکامات جاری کیے۔
731









