سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی کمیٹی کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پرپندرہ روز میں حتمی رپور ٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا، جمعرات کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے گلگت بلتستان آئینی کیس کی سماعت کی سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے آئینی حقوق کے لئے کابینہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کودن رات کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پندرہ روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو متعدد بار وقت دیا لیکن ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی محض کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں جسٹس گلزار نے کہا کہ انیس سو سینتالیس سے ہی ہمیں یہ معاملہ حل کر لینا چاہیئے تھا لیکن افسوس کہ ہم نے اس معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا ، دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گلگت بلتستان عدالتی دائرہ اختیار پر بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس بلانا ہے ہمیں مزید وقت دیا جائے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کی آئینی اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے دیگر ممبران میں وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری خارجہ ،سیکرٹری دفاع، سیکرٹری امور کشمیر، گورنر گلگت بلتستان ،صوبائی وزیر قانون، جوائنٹ سیکرٹری جی بی کونسل، اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ہونگے۔ کمیٹی سرتاج عزیز کی سفارشات پر عملدرآمد، گورننس آرڈر 2018 پر نظر ثانی کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے پر عملدرآمد، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی روشنی میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی۔ جس پر گلگت بلتستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکر م راجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کے حوالے سے رپورٹ دینا تھا نہ کہ ایک نئی کمیٹی بنانا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معاملے کو طول دینا چاہتی ہے ،سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ میں پہلے ہی ان تمام نکات پر غورخوض کیاگیا ہے جس پر اب ازسرنوجائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کمیٹی کے اوپر کمیٹی بناکر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مقدمے کو طول دینا چاہتی ہے ، کیوں نہ کمیٹی کے تمام اراکین کو یہاں بلائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ مزید وقت نہیں دے سکتے یہ اہم مسئلہ ہے گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے پیار کرتے ہیں ہم نے ابھی تک گلگت بلتستان والوں کو شناخت نہیں دی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کابینہ کا اجلاس چل رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اجلاس کو چھوڑ دیں کمیٹی ممبران کو آج ہی بلائیں جو مسئلہ اہم ہو اس کو پہلے دیکھنا چاہیے. چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ میں اٹارنی جنرل کی حمایت کروں گا یہ ایک حساس معاملہ ہے بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھنا ہوگا کمیٹی کو سات سے دس روز مزید دینے چاہیئں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گلگت بلتستان سے متعلق قوانین میں تبدیلی کے لیے سفارشات کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہیں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کے لیے کمیٹی بنائی ہے جس نے اپنے ٹی او آرز دیے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالنا چاہتے ہیں. حکومت کو ہمارے نوٹس لینے سے پہلے گلگت بلتستان کے حقوق سے متعلق کام کرنا چاہیے تھا کمیٹی کے تمام ممبران کو بلا لیں، وہ بتا دیں کیا فیصلہ کرنا ہے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ ایسے مسئلے کو براہ راست حل کیوں نہیں کرتے انیس سو سینتالیس سے ہی ہمیں یہ معاملہ حل کر لینا چاہیئے تھا لیکن افسوس کہ ہم ہر معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کو ایک ماہ دیا تھا آپ یہ پیش رفت دکھا رہے ہیں عدالت نے کمیٹی کو پندرہ دنوں میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی۔
679









